ملفوظات (جلد 10) — Page 301
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۱ جلد دہم ایسے بے قید اور آزاد عقا ئد ہی ہیں جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ دنیا کا کیا حصہ بدھ عقائد کا پابند ہے یا ان عقائد کو پسند کرتا ہے۔ مذہب کا دائرہ جتنا تنگ ہوگا اتنا ہی اس میں داخل ہونے والے لوگ بھی دا کم ہوں گے اور اتنی ہی نسبتا پاکیزگی اور طہارت اس میں موجود ہو گی ۔ اسلام نے شرائط پابندی ہر دو عورتوں اور مردوں کے واسطے لازم کیسے اسلامی پابندیاں ہیں۔ پردہ کرنے کا حکم جیسا کہ عورتوں کو ہے مردوں کو بھی ویسا ہی تاکیدی حکم ہے غض بصر کا ، نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج ، حلال و حرام کا امتیاز ، خدا کے احکام کے مقابلہ میں اپنی عادات رسم و رواج کو ترک کرنا وغیرہ وغیرہ ایسی پابندیاں ہیں جن سے اسلام کا دروازہ نہایت ہی تنگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر ایک شخص اس دروازے میں داخل نہیں ہوسکتا۔ عیسائی باش و ہر چہ خواہی کن ۔ اور (ان کا ) مذہب بھی ایک بے قید مذہب ہے اور مسلمانوں میں بھی آجکل ان لوگوں کو دیکھا دیکھی ایک ایسا فرقہ پیدا ہوا ہے کہ وہ اسلام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں ۔ اصل میں یہ سب امور اسی بے قیدی اور آزادی کے خواہشمندوں کو سو جھتے ہیں ۔ مگر یاد رکھیں کہ بے قیدی اور پاکیزگی تو نور وظلمت کی طرح آپس میں دشمن ہیں ۔ لاہور میں بھی طبائع میں قبول حق کی استعداد تو معلوم ہوتی ہے مگر بے قیدی اور آزادی ان کے رستے میں ایک سخت روک ہے۔ لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک قوم مسلمان ہوئی اور انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہمیں نماز معاف کر دی جاوے۔ مگر آپؐ نے ان کو یہی فرمایا کہ دیکھو جس مذہب میں خدا کی عبادت نہیں وہ مذہب ہی کچھ نہیں ۔ جب دنیا کی حالت کے اس آزاد اور بے قید حصہ پر نظر ڈالی جاتی ہے تو دل پر ایک قسم کا زلزلہ اور لرزہ وارد ہوتا ہے اور خیال آتا ہے کہ حقیقت میں اصلاح کی راہ میں سے اسی پتھر کا اٹھنا مشکل ہے بجز اس کے کہ دنیا پر ایک عظیم الشان انقلاب آ جاوے جو دلوں میں خدا کی ہیت اور سطوت اور جبروت وجلال کا یقین پیدا کر دے۔ آجکل اگر کوئی شراب کو چھوڑ بھی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ شراب کا استعمال نا جائز ہے۔ اصل میں