ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 299

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۹ جلد دہم و رمئی ۱۹۰۸ء ( بمقام لاہور قبل نماز ظہر ) طاعون اور ہیضہ وغیرہ وباؤں کا احمدی ڈاکٹروں اور اطباء کے لیے خاص نصیحت پر تھا ۔ فرمایا ہے ذکر بد قسمت ہے وہ انسان کہ ان بلاؤں سے بچنے کے واسطے سائنس، طبعی یا ڈاکٹران وغیرہ کی طرف توجہ کر کے سامان تلاش کرتا ہے اور خوش قسمت ہے وہ جو خدا کی پناہ لیتا ہے اور کون ہے جو بجز خدا کے ان آفات سے پناہ دے سکتا ہو؟ اصل میں یہ لوگ جو فلسفی طبع یا سائنس کے دلدادہ ہیں ایسی مشکلات کے وقت ایک قسم کی تسلی اور اطمینان پانے کے واسطے بعض دلائل تلاش کر لیتے ہیں اور اس طرح سے ان وباؤں کے اصل بواعث اور اغراض سے محروم رہ جاتے ہیں اور خدا سے پھر بھی غافل ہی رہتے ہیں ۔ ہماری جماعت کے ڈاکٹروں سے میں چاہتا ہوں کہ ایسے معاملات میں اپنے ہی علوم کو کافی نہ سمجھیں بلکہ خدا کا خانہ بھی خالی رکھیں اور قطعی فیصلے اور یقینی رائے کا اظہار نہ کر دیا کریں کیونکہ اکثر ایسا تجربہ میں آیا ہے کہ بعض ایسے مریض جن کے حق میں ڈاکٹروں نے متفقہ طور سے قطعی اور یقینی حکم موت کا لگا دیا ہوتا ہے ان کے واسطے خدا کچھ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ وہ بچ جاتے ہیں اور بعض ایسے لوگوں کی نسبت جو کہ اچھے بھلے اور بظاہر ڈاکٹروں کے نزدیک ان کی موت کے کوئی آثار نہیں نظر آتے خدا قبل از وقت ان کی موت کی نسبت کسی مومن کو اطلاع دیتا ہے۔ اب اگر چہ ڈاکٹروں کے نزدیک اس کا خاتمہ نہیں ۔ مگر خدا کے نزدیک اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آجاتا ہے۔ علم طب یونانیوں سے مسلمانوں کے ہاتھ آیا مگر مسلمان چونکہ موحد اور خدا پرست قوم تھی۔ انہوں نے اسی واسطے اپنے نسخوں پر ھو الشافی لکھنا شروع کر دیا۔ ہم نے اطباء کے حالات پڑھے ہیں۔ علاج الامراض میں مشکل امر تشخیص کو لکھا ہے۔ پس جو شخص تشخیص مرض میں ہی غلطی کرے گا وہ علاج میں بھی غلطی کرے گا کیونکہ بعض امراض ایسے ادق اور باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان کو سمجھ