ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 298

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۸ جلد دہم کتاب تالیف کی اور اس کا نام تلبیس ابلیس رکھا۔ سنا گیا ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا گیا تھا۔ یہ تو کفر بھی مبارک ہے جو ہمیشہ اولیاء اور خدا کے مقدس لوگوں کے حصہ میں ہی آتا رہا ہے ۔ خاکسار اور متواضع بنو ہمارا اس وقت اصل مدعا یہ ہے کہ ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ کفر سچا ہی ثابت ہو جاوے۔ انسان اگر خدا کے نزدیک بھی مورد قہر و عذاب الہی ہو تو پھر دشمن کی بات پکی ہی ہو جایا کرتی ہے۔ خالی شیخیوں سے اور بے جا تکبر اور بڑائی سے پر ہیز کرنا چاہیے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہیے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ حقیقتاً سب سے بڑے اور مستحق بزرگی تھے ان کے انکسار اور تواضع کا ایک نمونہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ لکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر قرآن شریف پڑھا کرتا تھا۔ ایک دن آپؐ کے پاس عمائد مکہ اور رؤسائے شہر جمع تھے اور آپ ان سے گفتگو میں مشغول تھے۔ باتوں میں مصروفیت کی وجہ سے کچھ دیر ہو جانے سے وہ نابینا اُٹھ کر چلا گیا۔ یہ ایک معمولی بات تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورۃ نازل فرمادی۔ اس پر آنحضرت اس کے گھر میں گئے اور اسے ساتھ لا کر اپنی چادر مبارک بچھا کر بٹھایا۔ اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمت الہی ہوتی ہے ان کو لازماً خاکسار اور متواضع بننا ہی پڑتا ہے کیونکہ وہ خدا کی بے نیازی سے ہمیشہ تر ساں ولرز اں رہتے ہیں ۔ آنانکه عارف تر اند ترساں تر ع کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نکتہ نواز ہے اسی طرح نکتہ گیر بھی ہے۔ اگر کسی حرکت سے ناراض ہو جاوے تو دم بھر میں سب کارخانہ ختم ہے۔ پس چاہیے کہ ان باتوں پر غور کرو اور ان کو یا درکھو اور عمل کرو۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۸ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۱ تا ۴