ملفوظات (جلد 10) — Page 278
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۸ جلد دہم یہ تمام امور انسانی طاقت گناہ سوز حالت پیدا کرنے کے لئے مامور کی ضرورت سے بالاتر ہیں۔ انسان کی اپنی طاقت نہیں کہ ان سب فضائل کو حاصل کر سکے اور تمام رذائل سے بکلی پاک ہو سکے۔ سواس غرض ں کے واسطے اللہ تعالیٰ کا یہ ہمیشہ سے قاعدہ ہے کہ وہ دنیا میں ایک انسان کو مامور کر کے بھیجا کرتا ہے اور اپنے عجائبات قدرت اس کے ہاتھ پر ظاہر کرتا ہے۔ اس کی دعائیں قبول کر کے اس کو اطلاع دیتا ہے۔ اس پر مکالمہ مخاطبہ کا فیضان جاری کرتا ہے۔ اور اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے خارقِ عادت معجزات اور غیبی امور ظاہر کرتا ہے جن سے سفلی خیالات کے انسان عاجز ہوتے ہیں اور ایسے چپکتے ہوئے اور ہیبت ناک امور اس کی تائید میں ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کے دل نور عرفان اور لذت یقین سے پر ہو کر گویا خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور اس طرح سے خدا کی عظمت اور جبروت ، سطوت اور ہیبت کے نظارہ کرنے سے ان کے دلوں میں سے غیر اللہ اور تمام گندی اور نفسانی خواہشات جو گناہ کا مبدء ہوتی ہیں جل جاتی ہیں اور خدا کا جلال اور اس کی کبریائی ان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے۔ غرض اس طرح سے وہ ایک جماعت پاک دل انسانوں کی تیار کر دیتا ہے۔ گناہ سوز حالت جب ہی پیدا ہوتی ہے جبکہ خدا اپنے جلال اور ہیبت کو دنیا میں ظاہر کرتا ہے اور جب اس کے جبروت وسطوت کا دورہ ہو کر دنیا پر ایک قہری تجلی ہوتی ہے اور جس طرح ایک خطرناک بجلی جس میں ایک خوفناک کڑک اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چمک ہوتی ہے دلوں پر اپنا تسلط اور رعب بٹھا جاتی ہے۔ اسی طرح اس مامور کے زمانہ میں خدا کی جلالی صفات جلوہ گر ہو کر دنیا میں ایک پاک تبدیلی پیدا کر جاتا ہے۔ دیکھئے! اگر آپ کے پاس ایک آدمی نہایت ہی رڈی اور خستہ حالت میں آوے خواہ وہ در حقیقت بادشاہ ہی کیوں نہ ہو آپ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا اور آپ اس کے آنے کی کچھ پروانہ کریں گے بلکہ اگر وہ کچھ کہنا چاہے گا تو آپ حقارت سے اس کی بات کی طرف بھی متوجہ نہ ہوں گے مگر اگر وہی شخص اپنی شاہانہ شان و شوکت اور سلطانی جلال اور ہیت لے کر آوے تو آپ کو اس کا استقبال بھی کرنا