ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 277

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۷ جلد دہم موت سے پہلے ہی مر رہتے ہیں۔ یہ اخیار ، ابدال اور اقطاب کیا ہوتے ہیں؟ اور ان میں کیا چیز زائد آ جاتی ہے؟ وہ یہی یقین ہوتا ہے۔ یقینی اور قطعی علم ضرورتا اور فطرتا انسان کو ایک آمر کے واسطے مجبور کر دیتا ہے ۔ خدا کی نسبت ظن کفایت نہیں کر سکتا ۔ شبہ مفید نہیں ہو سکتا۔ اثر صرف یقین ہی میں رکھا گیا ہے۔ خدا کی صفات کا یقینی علم ایک ہیبت ناک بجلی سے بھی زیادہ اثر رکھتا ہے۔ اسی کے اثر سے تو یہ لوگ سر ڈال دیتے اور گردن جھکا دیتے ہیں۔ پس یا د رکھو کہ جس قدر کسی کا یقین بڑھا ہوا ہو گا اسی قدر وہ گناہ سے اجتناب کرتا ہوگا۔ بظاہر نظر تو گناہ سے بچنے والے اور اس قسم کا دعویٰ کرنے والے بہت ہوں گے مگر ان کی مثال وہی ہے جس طرح ایک پھوڑا جو کہ پیپ سے خوب بھر گیا ہو ظاہری جانب سے چمک اٹھتا ہے اور باقی حصہ جسم سے بھی اس کی چمک دمک اور روشنی بڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔ مگر اندر اس کے پیپ اور گندہ مواد بھرے ہوتے ہیں ۔ گناہ سے بچنے کے آثار بھی تو ساتھ ہوں ۔ روشنی ، دھوپ اور گرمی اس بات کے شاہد ہیں کہ آفتاب نکلا ہوا ہے۔ مگر جو شخص کہ رات کے وقت کہتا ہے کہ آفتاب چڑھا ہوا ہے حالانکہ آفتاب کے آثار نہیں ۔ اب بتاؤ کہ کوئی اس کی بات کو باور کرے گا ؟ ہر گز نہیں۔ پس یہی حال ان لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ اس ایمان کے آثار یعنی گناہ سے بکلی نفرت اور پھر اس کے آثار کہ خدا کے فیوض و برکات اور تائیدات اور سچی پاکیزگی ، تقویٰ اور طہارت ان میں مفقود ہوتے ہیں۔ یہ بات کہ انسان خدا کی رضا کے خلاف کاموں سے بالکل دست کش ہو جائے اور گناہ اور خدا کی نافرمانی اسے آگ کھانے سے بھی بدتر نظر آوے اور خدا کے مقابلہ میں کسی دنیوی جاہ و جلال کا رعب داب اس پر اثر نہ کرے بلکہ یہ ماسوی اللہ کو بجز ارادہ الہی کسی کے نفع اور ضرر پہنچانے میں ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح سمجھے اور ایسا ہو جائے کہ اس کا سکون اور اس کی حرکت اور اس کے تمام افعال خدا کی مرضی کے تابع ہو جاویں اور یہ اپنے آپ سے فنا ہو کر خدا میں محو ہو جائے ۔