ملفوظات (جلد 10) — Page 279
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۹ جلد دہم پڑے گا۔ عزت و عظمت بھی کرنی پڑے گی اور ضرور ہے کہ آپ ہمہ تن گوش ہو کر اس کے احکام کی بجا آوری کے لئے تیار ہو جائیں۔ پس یہی حال خدا کی معرفت کا ہے۔ جب تک کسی کو خدا کی معرفت ہی نہیں وہ تذلل اور انکسار جو عبادت کا خلاصہ ہے کیسے بجالا وے گا۔ سچ ہے۔ ع آناں کہ عارف تر اند ترساں تر میں نے آپ کو یہ سب کچھ قصے کہانیاں کے رنگ میں نہیں سنایا بلکہ خدا اب بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح کہ وید توریت اور انجیل کے زمانہ میں تھا اور اسی طرح اب بھی سنتا ہے جیسا کہ پہلے زمانوں میں سنتا تھا اور اسی طرح اب بھی بولتا ہے جس طرح ان زمانوں میں بولا کرتا تھا اور اسی بات کے ثابت کرنے کے واسطے ہم آئے ہیں ۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام اتنی تقریر فرما چکے تھے کہ سوال کیا گیا کہ بعض گناہ کی حقیقت لوگ ایک آمر و گناہ یقین کرتے ہیں حالانکہ ایک دوسرے ملک یا خودای ملک کو کے بعض لوگ اسی امر کو گناہ نہیں مانتے یا ثواب یقین کرتے ہیں ۔ تو اب ان میں امر فیصل کیا ہوا؟ فرمایا۔ آپ کے بیان میں یہ ثابت ہو گیا کہ کم از کم اختلاف تو ہے۔ پس اسی اختلاف میں ہی ہماری فتح ہے۔ ایک مومن اور محتاط انسان کی شان سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ مختلفہ امور کو اختیار کرے۔ مثلاً آپ ہی کے سامنے ایک کھانا رکھا جاوے۔ اتنے میں کوئی شخص آپ کو یہ بتادے کہ اس کھانے میں زہر کا احتمال ہے ۔ اب آپ ہی فرماویں کہ کیا آپ اس کو استعمال کریں گے؟ میں تو ہرگز یقین نہیں کر سکتا کہ ایک ایسا آدمی جس کو اپنی زندگی عزیز ہو اس کا ایک لقمہ بھی کھا سکے ۔ بے شک یہ سچی بات ہے کہ دہر یہ ایک بے باکی کا طریق اختیار کرتا ہے مگر اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ امر اس کے واسطے مضر نہیں اور وہ بچ گیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ جس طرح ہر درخت کے پھل لانے کا ایک معین وقت ہوتا ہے اسی طرح ہر زہر کے اثر کا بھی ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ بعض زہر ایسے ہیں کہ ہاتھوں ہاتھ اپنا اثر دکھا دیتے ہیں ۔ بعض گھڑی اور بعض گھنٹے بعد اور بعض کی میعاد اس سے بھی زیادہ کئی دنوں کی ہوا کرتی ہے ۔