ملفوظات (جلد 10) — Page 272
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۲ جلد دہم ہے۔ تحریری بھی اس کام کو پورا کر دیا ہے۔ دنیا میں کوئی کم ہی ہوگا جو اب بھی یہ کہہ دے کہ اس کو او ہماری تبلیغ نہیں پہنچی یا ہمارا دعوئی اس تک نہیں پہنچا۔ لے ۳ رمتی ۱۹۰۸ء بروز اتوار بمقام لاہور بر مکان ڈاکٹر سیدمحمدحسین شاہ صاحب ) ایک دہریہ سے ملاقات کے دوران فرمایا۔ خدا تعالیٰ کو شناخت کرنے کا طریق طبائع میں اختلاف ہوتا ہے۔ بعض طبائع میں ایسی استعداد ہوتی ہے کہ وہ حق کے قبول کرنے میں جلدی کرتی ہیں اور بعض ایسی بھی ہوتی ہیں کہ حق ان کی سمجھ میں آ تو جاتا ہے مگر دیر بعد ۔ اور بعض ایسی بھی ہوتی ہیں کہ ان میں قبول حق کی استعداد دیتے دیتے ایک وقت بالکل زائل ہی ہو جاتی ہے۔ خدا جس کا وجود مخفی در مخفی اور نہاں در نہاں ہے۔ ہم نے اس کو ایسا نہیں مانا کہ وہ ایک ہیولی ہے۔ ایسا ایک انسان جس کو سچا شوق ، حقیقی جوش اور دلی تڑپ ہے کہ وہ خدا کو پہچانے اس کے لئے تمام گذشتہ قصص اور واقعات پر نظر ڈال کر غور کرنا از بس مفید ہو سکتا ہے۔ تاریخ ایسے انسان کے واسطے رہبری کر سکتی ہے۔ تاریخ اور تمام واقعات سلف بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں بتاتے کہ خدا کو خدا کے عجائبات قدرت اور تصرفات سے جو کہ وہ بذریعہ اپنے الہامات، وحی اور مکالمات دنیا پر ظاہر کرتا ہے پہچان سکتے ہیں۔ اس راہ سے بڑھ کر اور کوئی یقینی راہ خدا کی شناخت کی ہر گز نہیں ہے۔ جن لوگوں کو وہ خاص کر لیتا ہے اور حصہ معرفت ان کو عطا کرتا ہے ان پر وہ مکالمہ مخاطبہ کا فیضان جاری کرتا ہے ۔ عشاق کی تسلی اور تسکین کے لئے دیدار یا گفتار دو ہی چیزیں ہیں۔ جہاں دیدار نہیں ہو سکتا وہاں گفتار دیدار کی جابجا اور قائم مقام ہو جاتی ہے۔ ایک مادر زاد نا بینا گفتار ہی کے ذریعے شناسائی کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ غیر محدود ہے اور اس کی ذات ایسی نہیں کہ اس کی رؤیت اور دیدار جسمانی چیزوں کی طرح ہو سکے۔ اس واسطے اس نے الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۹ مورخه ۱۱۸ ۱۲ نمبر ۳۹ مورخه ۱۸ جون ۱۹۰۸ ء صفحه ۵ تای