ملفوظات (جلد 10) — Page 273
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۳ جلد دہم اپنی گفتار جس کو بالفاظ دیگر الہام ، وحی ، مکالمات کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے، دیدار کے قائم مقام رکھ دی ہے۔ کم ہیں جن کو دیدار ہوتا ہو۔ اکثر گفتار ہی کے ذریعہ تسلی پاتے اور طمانیت حاصل کرتے ہیں۔ اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھلا یہ کیوں کر معلوم ہو کہ وہ گفتار جو انسان کلام اللہ کا امتیاز سنا ہے واقع خدا کا کام کسی اور انہیں ساس کے لئے یاد رکھنا چاہیے 200 کہ خدا کے کلام کے ساتھ خدائی طاقت، جبروت اور عظمت ہوتی ہے جس طرح تم لوگ ایک معمولی انسان اور بادشاہ کے کلام میں فرق کر سکتے ہو اسی طرح اس احکم الحاکمین کے کلام میں بھی شوکت وسطوت سلطانی ہوتی ہے جس سے شناخت ہو سکتی ہے کہ واقعی یہ کلام بجز خدائے عز وجل کے اور کسی کا نہیں ۔ یہ ملہمین کی علامات دوسرابڑا بھاری نشان اس شناخت اور تیز کا ہوتا ہے کہ اس انسان سے خدا کلام کرتا ہے وہ خالی نہیں ہوتا بلکہ اس میں بھی خدائی شان جلوہ گر ہوتی ہے اور وہ بھی ایک گونہ خدائی صفات کا مظہر اور جلوہ گاہ ہوتا ہے ۔ اس میں وہ لوازم پائے جاتے ہیں ۔اس میں ایک خاص امتیاز ہوتا ہے ۔ علوم غیبی جو سفلی خیالات کے انسانوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے وہ ان کو عطا کئے جاتے ہیں۔ اس کی دعائیں قبول کر کے اس کو اطلاع دی جاتی ہے اور اس کی اس کے کاروبار میں خاص نصرت اور مدد کی جاتی ہے اور جس طرح خدا سب پر غالب ہے اور اس کو کوئی جیت نہیں سکتا ۔ اسی طرح انجا مکار وہ بھی غالب اور ہر طرح سے مظفر و منصور اور کامیاب و با مراد ہو جاتے ہیں۔ غرض یہ نشان ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے عقلمند انسان کو ضرور تا ماننا ہی پڑتا ہے کہ واقعی یہ انسان مقرب بارگاہ ہے اور پھر یہ بھی ماننا ہی پڑتا ہے کہ خدا بھی ضرور ہے ۔ ہمیں ایسے لوگوں سے بھی گفتگو اور ملاقات کا اتفاق ہوا ہے جو مصنوعات سے صانع کو پہچاننے اور شناخت کرنے کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اس طریق کو ہم نے آزمایا بھی ہے۔ مگر یا درکھو کہ یہ راہ ٹھیک نہیں ادھوری ہے۔