ملفوظات (جلد 10) — Page 247
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۷ جلد دہم آنے لگ گئی ہے اب مطمئن ہو جاویں گے اور بے خوف ہو کر جرات اور دلیری سے ارتکاب معاصی اور جرائم میں آگے سے بھی سخت دل ہو کر ترقی کر جاویں گے ۔ اور توبہ استغفار اور توجہ الی اللہ اور تبدیلی کی فکر دلوں میں پیدا نہ ہوگی۔ مگر خدا فرماتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ ( بعد نماز عصر ) صفات حسنہ اور اخلاق فاضلہ کے دو حصے حقوق اللہ اور حقوق العباد ( جناب شاہزادہ محمد ابراہیم خاں صاحب کی ملاقات کے وقت حضرت اقدس نے بزبان فارسی تقریر فرمائی ۔ ایڈیٹر ) فرمایا۔ دنیا میں اس زمانہ میں نفاق بہت بڑھ گیا ہے۔ بہت کم ہیں جو اخلاص رکھتے ہیں ۔ اخلاص اور محبت شعبہ ایمان ہے ۔ آپ کو خدا آپ کی محبت اور اخلاص کا اجر دے اور تقویت عطا کرے۔ اخلاق فاضلہ اسی کا نام ہے بغیر کسی عوض معاوضہ کے خیال سے نوع انسان سے نیکی کی جاوے ۔ اسی کا نام انسانیت ہے۔ ادنی صفت انسان کی یہ ہے کہ بدی کا مقابلہ کرنے یا بدی سے در گذر کرنے کی بجائے بدی کرنے والے کے ساتھ نیکی کی جاوے یہ صفت انبیاء کی ہے اور پھر انبیاء کی صحبت میں رہنے والے لوگوں کی ہے اور اس کا اکمل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ خدا ہرگز ضائع نہیں کرتا ان دلوں کو کہ ان میں ہمدردی بنی نوع ہوتی ہے۔ صفات حسنہ اور اخلاق فاضلہ کے دو ہی حصے ہیں اور وہی قرآن شریف کی پاک تعلیم کا خلاصہ اور لب لباب ہیں ۔ اوّل یہ کہ حق اللہ کے ادا کرنے میں عبادت کرنا فسق و فجور سے بچنا اور کل محرمات الہی سے پر ہیز کرنا اور اوامر کی تعمیل میں کمر بستہ رہنا۔ دوم یہ کہ حق العباد ادا کرنے میں کو تا ہی نہ کرے اور بنی نوع انسان سے نیکی کرے۔ بنی نوع انسان کے حقوق بجانہ لانے والے لوگ خواہ حق اللہ کو ادا کرتے ہی ہوں بڑے خطرے میں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ستا رہے، غفار ہے،