ملفوظات (جلد 10) — Page 248
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۸ جلد دہم رحیم ہے اور حلیم ہے اور معاف کرنے والا ہے۔ اس کی عادت ہے کہ اکثر معاف کر دیتا ہے مگر بندہ (انسان) کچھ ایسا واقع ہوا ہے کہ کبھی کسی کو کم ہی معاف کرتا ہے۔ پس اگر انسان اپنے حقوق معاف نہ کرے تو پھر وہ شخص جس نے انسانی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہو یا ظلم کیا ہو خواہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں کوشاں ہی ہو اور نماز ، روزہ وغیرہ احکام شرعیہ کی پابندی کرتا ہی ہو ۔ مگر حق العباد کی پروا نہ کرنے کی وجہ سے اس کے اور اعمال بھی حبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ غرض مومن حقیقی وہی جو حق اللہ اور حق العباد دونوں کو پورے التزام اور احتیاط سے بجالا وے۔ جو دونوں پہلوؤں کو پوری طرح سے مد نظر رکھ کر اعمال بجالاتا ہے وہی ہے کہ پورے قرآن پر عمل کرتا ہے ورنہ نصف قرآن پر ایمان لاتا ہے ۔ مگر یہ ہر دو قسم کے اعمال انسانی طاقت میں نہیں کہ بزور بازو اور اپنی طاقت سے بجالانے پر قادر ہو سکے ۔ انسان نفس اتارہ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ۔ جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور توفیق اس کے شامل حال نہ ہو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ دعائیں کرتا رہے۔ تا کہ خدا کی طرف سے اسے نیکی پر قدرت دی جاوے اور نفس امارہ کی قیدوں سے رہائی عطا کی جاوے۔ یہ انسان کا سخت دشمن ہے۔ اگر نفس اتارہ نہ ہوتا تو شیطان بھی نہ ہوتا۔ یہ انسان کا اندرونی دشمن اور مار آستین ہے اور شیطان بیرونی دشمن ہے۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب چور کسی کے مکان میں نقب زنی کرتا ہے تو کسی گھر کے بھیدی اور واقف کار سے پہلے سازش کرنی ضروری ہوتی ہے۔ بیرونی چور بجز اندرونی بھیدی کی سازش کے کچھ کر ہی نہیں سکتا اور کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ پس یہی وجہ ہے کہ شیطان بیرونی دشمن ، نفس امارہ اندرونی ۔ اور گھر کے بھیدی سے سازش کر کے ہی انسان کے متاع ایمان میں نقب زنی کرتا ہے اور نور ایمان کو غارت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا أُبَرِی نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوء (یوسف:۵۴) یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا اور اس کی طرف سے مطمئن نہیں کہ نفس پاک ہو گیا ہے بلکہ یہ تو شریر الحکومت ہے۔ تزکیہ نفس بڑا مشکل مرحلہ ہے اور مدار نجات مدار نجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے۔ تزکیہ نفس پر موت ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے