ملفوظات (جلد 10) — Page 246
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۶ جلد دہم دنیا پر ۔ایسے وقت میں یہ الہام ہوا تھا کہ افطِرُ وَاصُومُ یعنی ایک استعارہ تھا کہ کبھی یہ مرض زور پکڑ جاوے گا اور کبھی اس میں وقفہ بھی آجاوے گا۔ اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بانفسهم (الرعد : ۱۲) خدا نہیں چھوڑے گا اور ہر گز نہیں چھوڑے گا جب تک لوگ اپنے اخلاق، اعمال اور خیالات میں ایک تبدیلی پیدا نہ کر لیں گے ۔ اصل میں ان لوگوں کو یہ امر بھی گراں گزرتا ہے کہ خدا کی طرف کوئی امر منسوب کیا جاوے بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ اتفاقی طور سے ہوگئی ۔ خدا کا اس میں کیا دخل و تصرف ہے۔ اب ہمیں تو اس بات کا فکر ہے کہ اب لوگ خواہ مخواہ یہ رائے قائم کر لیں گے اور پھر اس رائے کو صحیح یقین کریں گے کہ ایک اتفاقی مرض تھا سو جاتا رہا ، اب امن امان ہو گیا۔ غرض اس طرح سے اطمینان اور تسلی کر کے خدا سے منہ پھیریں گے اور بے باکی اور جرات میں ترقی کر جاویں گے ۔ دلوں میں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ہی اٹھ چکی ہے۔ دنیا کے حکام کی اور اپنی اغراض کی جس قدر عظمت اور تڑپ ان کے دلوں میں ہوتی ہے خدا اور اس کے رسول اور ان کی رضا کی اتنی بھی تڑپ اور عظمت باقی نہیں رہی۔ طاعون کا عالمگیر اور قہری نشان بھی ان کے واسطے مفید نہ ہوا۔ زلزلے بھی خدا کے وعدے کے عین مطابق آگئے اور شہروں کے شہر جو کسی وقت بڑے آباد تھے ویران ہو گئے ۔ مگر دنیا نے تبدیلی پیدا نہ کی ۔ چند روز ہوئے الہام ہوا۔ زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ یہ بھی ایک مخفی اور خوفناک بات پر استدلال کرتا ہے۔خواہ ظاہری ہو خواہ اندرونی ۔ کیونکہ زلزلہ کا لفظ ظاہر معنوں کے سوا دوسرے معنوں پر بھی بولا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے ۔ زُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (الاحزاب : ۱۲) اب جتنے نشان بھی خدا نے ظاہر کئے ہیں ان سب کا ان پر الٹا اثر پڑے گا اور سب کو یہ طاعون کی طرح اتفاقی سمجھ کر سخت دل ہو جاویں گے ۔ فرعون والا حال ہے۔ وہ بھی جب ایک عذاب میں افاقہ ہوتا تھا تو اسے عارضی اور اتفاقی جان کر اور بھی سخت دل ہو جاتا تھا۔ آخر کا ر پھر غرق ہوتے وقت کہا میں بھی اس پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ۔ خدا کا نام پھر بھی نہ لیا۔ یہی حال اس وقت اس قوم کا ہے۔ طاعون تھا سو وہ کسی قدر کم ہو ہی گیا ہے قحط بھی اب چنداں زور پر نہیں اور صورت امن کی نظر