ملفوظات (جلد 10) — Page 245
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۵ جلد دہم نہیں کیونکہ لوگوں نے طاعون سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ۔ جس غرض کے واسطے یہ آیا تھا وہ غرض ابھی پوری نہیں ہوئی ۔ اصل میں طاعون نام ہے موت کا ۔ لغت میں وہ خطرناک عوارض جن کا انجام موت ہوتا ہے اس کا نام طاعون ہی رکھا ہے اور یہ لفظ لغت کے رو سے بڑا وسیع ہے۔ ممکن ہے کہ اب کسی اور رنگ میں نمودار ہو جاوے یا اسی رنگ میں آئندہ اور بھی زور سے پھوٹ نکلے ۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میں بھی افطِرُ وَ أَصُومُ کا لفظ ہے۔ یعنی ایک وہ وقت ہے جس طرح افطار میں کھانا پینا جائز ہوتا ہے۔ اسی طرح طاعون لوگوں کو کھاتا جاوے گا اور ایک وقت ایسا بھی ہوگا کہ صوم کی طرح امن ہو جاوے گا - إِنِّي مَعَ الرَّسُولِ أَقُومُ - أَفْطِرُ وَأَصُومُ وَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ إِلَى الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ - لوگ امن اور آرام کے واسطے جلدی ایک بات بنا لیا کرتے ہیں۔ اجی ایک بیماری تھی سو چلی گئی۔ کیسا نشان اور کیسی تنبیہ ! غرض اس طرح کے خیالات سے اپنی تسلی کر لیتے ہیں۔ اصل میں طاعون بڑا وسیع لفظ ہے۔ الطَّاعُونُ الْمَوْتُ كل امراض دوری کا نام ۔ یہ چیچک ہے۔ ذات الجنب ہے، تپ ، گلٹیاں، قے ، سکتہ۔ اس قسم کی کل امراض اس میں داخل ہیں یہ لفظ یا د رکھنے کے قابل ہے کہ صحابہ کے وقت میں بھی ایک قسم کا طاعون پھوٹا تھا مگر وہ بہت بار یک ایک دانہ کی طرح ایک پھنسی ہوتی تھی جو کہ ہتھیلی میں نکلتی تھی ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ غشی اور نیند کی حالت میں اور اور بعض بع ہنستے ہنستے ہی اس دنیا سے چل گذرتے ہیں۔ بعض کو خون کے جلاب لگ جاتے ہیں۔ بعض کا کسی کو علم بھی نہیں ہوتا کہ ہوا کیا ؟ دس آدمی تھے رات اچھے بھلے سوئے مگر صبح ہوتے ان میں سے ایک بھی زندہ نہ اٹھا۔ غرض اس قسم کے کئی واقعات ہیں کہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرض کا کسی کو پتہ نہیں لگا اور اس کے کئی رنگ ہیں ۔ اصل میں یہ وقفہ بھی شامت اعمال کی وجہ سے مفید نہیں بلکہ بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ لوگ اب دلیر ہو جاویں گے اور جرات سے ارتکاب جرائم کریں گے اور اس وقفے سے یہ نتیجہ نکال لیں گے کہ اجی صاحب ! ایک بیماری تھی گئی گذری۔ نہ کوئی نشان ہے کسی کا اور نہ عذاب ۔ غرض یہ خوشی کا مقام نہیں بلکہ جائے خوف ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ طاعون کی وجہ سے ایک قہر الہی ٹوٹ پڑا تھا