ملفوظات (جلد 10) — Page 244
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۴ جلد دہم واقف ہے وہ ہمیشہ منہاج نبوت کو مد نظر رکھ کر ہی تحقیق کرے گا۔ ایسے لوگوں کے اعتراضات بہت تھوڑے رہ جاتے ہیں اور اس راستے کا بہت تھوڑا حصہ ان کے واسطے باقی رہ جاتا ہے اور اگر ایسا شخص ہے کہ اسے خود اسلام کے متعلق ہی شک و شبہات پیدا ہور ہے ہیں اور ابھی اس نے اسلام کی صداقت کا ہی فیصلہ نہیں کیا تو پھر ایسے لوگوں کے واسطے سلامتی کی کوئی راہ نہیں اور یہی ہیں کہ آخر وہ ہلاک ہو جاتے ہیں ایسے لوگ دراصل روحانی امور کے دشمن ہوتے ہیں۔ ان میں ایک قسم کا کبر اور غرور ہوتا ہے۔ وہ لوگ اتباع کو عار سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ نئی روشنی میں بھی ہلاک ہو گئے مگر خدا کے آسمانی نور کو قبول نہ کیا۔ خدا کا ہمیشہ سے یہ قانون چلا آتا ہے کہ جب دنیا فسق و فجور اور گناہ سے پر ہو جاتی اور ہر قسم کے مفاسد دنیا میں پھیل جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے ایک روحانی سلسلہ قائم کر کے زمانہ کی اصلاح کرتا ہے مگر وہ جو کہتا ہے کہ مجھے اس کی کیا ضرورت ہے گویا وہ خدا کے قانون کو بدلنا چاہتا ہے۔ ایسے لوگوں سے تو یہ بھی خوف ہے کہ ایک دن اسلام سے بھی انکار کر دیں اور یہاں تک کہ خود خدا کی ہستی کی بھی ضرورت محسوس نہ کریں یہ بڑی خطرناک راہ ہے کیونکہ جو حقیقی اور سچی راہ شناخت اسلام اور وجود باری تعالیٰ پر دلیل تھی ان لوگوں نے اسی سے روگردانی کر لی ہے۔ اکثر ان میں ایسے پائے جاتے ہیں کہ معلومات وسیع کا دعویٰ کرتے ہیں مگر جاہل بلکہ اجہل ہوتے ہیں۔ دین اور علوم دینی سے ان کو مس بھی نہیں ہوتا۔ فائدہ وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو خالی النفس ہوتے ہیں اور خدا کی راہ میں سچی پیاس ، نرمی اور صبر سے کام کرتے ہیں۔ روشنی کی ضرورت اس شخص کو ہوتی ہے جو ، ظلمت میں ہو۔جس کے پاس پہلے ہی روشنی ہے وہ روشنی کا کیسے محتاج ہو سکتا ہے؟ جو برتن پہلے ہی پر ہے اس میں اور کیا داخل ہو سکتا ہے؟ ہمیشہ خالی برتن میں کچھ بھرا جاتا ہے۔ عمر کا اعتبار نہیں ۔ زمانہ بڑا خطرناک ہے۔ بہت جلدی اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ طاعون میں کمی خوشی کا مقام نہیں اس سال طاعون کسی قدر م ہے۔ یہ کوئی خوشی کا مقام