ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 243

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۳ جلد دہم کامیاب ہوں مگر جب بایں ہمہ سخت محنت اور کوشش کے بھی بعض لوگ نا کام ہو جاتے ہیں تو بالکل نکتے اور ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ ر پاؤں توڑ کر بیٹھ رہنے والوں کا کیا حال؟ مانا کہ کوشش کرنے والے بھی نا کام ہو جاتے ہیں مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ اب آئندہ کوشش ہی نہ کی جاوے۔ یہ بالکل غلط راہ ہے۔ کیا عجب کسی کا شعر ہے۔ گرچه وصالش نہ بکوشش دهند ہر قدر اے دل کہ توانی بکوش دیکھو! ایک کسان کیسی جانکاہی اور محنت سے ایک فصل تیار کرتا ہے مگر بعض اوقات ژالہ باری سے اور بعض اوقات امسا ت امساک باراں کی وجہ سے اس کا فصل ضائع ہو جاتا ہے مگر اس ناکامی پر ایسا اثر نہیں ہوتا کہ پھر آئندہ کے واسطے لوگ زراعت ہی ترک کر دیں۔ ہزاروں ہیں کہ باوجود ان ناکامیوں کے پھر بھی پورے زور سے کوشش کئے جاتے ہیں اور آخر اپنی کوششوں کے ثمرات سے مستفید بھی ہوتے ہیں ۔ فیضان الہی کوشش پر موقوف ہے۔ دیکھو شاعر بھی جب کوشش کرتا ہے اور ٹکریں مارتا ہے تو آخر کوئی نہ کوئی شعر سوجھ ہی جاتا ہے۔ آپ کے واسطے بھی ضروری ہے کہ سلسلہ کی کتابیں مطالعہ کریں اور غور اور انصاف پسندی سے دیکھیں کہ آیا ان میں حق ہے یا کہ نہیں ۔ کسی امر کے متعلق رائے قائم کرنے کے واسطے معلومات کا ہونا از بس ضروری ہے جس کی معلومات وسیع ہو جاتے ہیں وہ خود مواز نہ کر سکتا ہے کہ فریقین میں سے کون حق بجانب ہے۔ اکثر لوگ غرور نفس کی وجہ سے اول تو ہمارے پاس آنے میں ہی مضائقہ کرتے ہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو وہ گھر سے ہی فیصلہ کر کے آتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی گذرے ہیں اور ہمیشہ محروم ہی رہ جایا کرتے ہیں ۔ ایمان ان کے نصیب ہوتا ہی نہیں۔ اصل میں ایسے لوگ دہر یہ بے دین اور بے قید ہوتے ہیں۔ جو شخص سچے طور پر اپکا مسلمان ہوتا ہے اس پر حق کے پرکھنے کے واسطے بہت بڑے مشکلات نہیں آتے کیونکہ ایک مسلمان جو حقیقت میں مسلمان ہے اور سنت اللہ اور سنتِ رسول سے