ملفوظات (جلد 10) — Page 238
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۸ جلد دہم ہو جاوے اور یہ یقین پیدا نہ ہو جاوے کہ خدا کی نافرمانی اور گناہ ایک بھسم کر دینے والی آگ ہے یا ایک خطرناک زہر ہے تب تک حقیقت ایمان کو نہیں سمجھا گیا اور بغیر ایسے کامل یقین اور معرفت کے پھر ایمان بھی ادھورا ایمان ہے۔ وہ ایمان جس کا اعمال پر بھی اثر نہ ہو یا جو ایمان انسانی حالات میں ذرا بھی تبدیلی پیدا نہ کر سکے کس کام کا ایمان ہے اور اس کی کیا فضیلت ہو سکتی ہے؟ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے کاروبار میں آرام سے زندگی بھی بسر کرتے رہیں۔ اور خدا بھی مل جاوے اور انسان پاک بھی ہو جاوے اور اسے کوئی محنت اور کوشش نہ کرنی پڑے یہ بالکل غلط خیال ہے۔ کل انبیاء، اولیاء، اتقیاء اور صالحین کا یہ ایک مجموعی مسئلہ ہے کہ پاک کرنا خدا کا کام ہے اور خدا کے اس فضل کے جذب کے واسطے اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم از بس ضروری اور لازمی ہے جیسا کہ فرماتا ہے قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) سورج دنیا میں موجود ہے مگر چشم بینا بھی تو چاہیے ۔ خدا تعالیٰ کا قانون قدرت لغو اور بے فائدہ نہیں ہے۔ جو ذرائع کسی امر کے حصول کے خدا نے بنائے ہیں ۔ آخر انہیں کی پابندی سے وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ کان سننے کے واسطے خدا نے بنائے ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے ہیں۔ آنکھ جو دیکھنے کے واسطے بنائی گئی ہے وہ سننے کا کام نہیں کر سکتی ۔ بس اسی طرح خدا کے فضل کے فیضان کے حصول کی جو راہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے اس سے باہر رہ کر کیسے کوئی کامیاب ہو سکتا ہے؟ حقیقی پاکیزگی اور طہارت ملتی ہے اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکہ خود خدا نے فرمادیا ہے کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو رسول کی پیروی کرو۔ پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں کسی نبی یا رسول کی کیا ضرورت ہے؟ وہ گو یا اللہ تعالیٰ کے قانونِ قدرت کو باطل کرنا چاہتے ہیں ۔ خدا فرماتا ہے کہ تم پاک نہیں ہو سکتے جب تک کہ میں کسی کو پاک نہ کروں ۔ تم اندھے ہو مگر ۔ جسے میں آنکھیں دوں ۔ تم مُردے ہو مگر جسے میں زندگی عطا کروں پس انسان کو چاہیے کہ ہمیشہ دعاؤں میں لگا ر ہے اور اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی سچی تڑپ اور سچی خواہش پیدا کرے اور خدا کی محبت کی پیاس دل میں پیدا کرے تا کہ پھر خدا کا فیضان بھی اس کی نصرت کرے اور