ملفوظات (جلد 10) — Page 237
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۷ جلد دہم مقصد مد نظر رکھ کر محنت کی جاتی ہے اور کامیابی کے واسطے کس قدر جان توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ حصول عزت اور مدارج پاس کے واسطے کیسی کیسی جانکاہ سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں کہ بعض اوقات انسان ان محنتوں کی وجہ سے پاگل اور مجنون اور بعض اوقات ایسے عوارض میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ سل اور دق وغیرہ امراض اس کے لاحق حال ہو جاتی ہیں جب دنیوی امتحانات کی گھاٹیاں ایسی مشکل ہیں تو پھر دینی اور روحانی مقاصد کی گھاٹیاں جن کے نتائج ابھی ایک قسم کے پردہ غیب میں ہیں اور بعض ظنی طبائع ان کے وجود اور عدم وجود میں بھی فیصلہ نہیں کر سکتے ان کے حصول کے واسطے پھر کیسی کیسی محنت اور کوشش کی ضرورت ہے؟ یہ خیال کر لینا کہ ہم ایک پھونک سے خدا تک پہنچ سکتے ہیں اور صرف لسانی اقرار سے ہی پاک ہو سکتے ہیں یہ ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے اصلاح نہ کبھی دیکھی اور نہ سنی ۔ یا د رکھو کہ پاکیزگی کے مراحل بہت دور ہیں اور پاکیزگی کے مراحل بہت دور ہیں وہ ان خیالات سے بالاتر ہیں۔ صرف پاکیزگی حاصل کرنا اور سچے طور سے صغائر کبائر سے بچ جانا ان لوگوں کا کام ہے جو ہر وقت خدا کو آنکھ کے سامنے رکھتے ہیں اور فرشتہ سیرت بھی وہی لوگ ہو سکتے ہیں۔ دیکھو ایک بکری کو اگر ایک شیر کے سامنے باندھ دیں تو وہ اپنا کھانا پینا ہی بھول جاوے چہ جائیکہ وہ ادھر ادھر کے کھیتوں میں منہ مارے اور لوگوں کی محنت اور جانفشانیوں سے پیدا کی ہوئی کھیتیوں کو کھاوے۔ پس یہی حال انسان کا ہے اگر اس کو یہ یقین ہو کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں یا کم از کم خدا مجھے دیکھ رہا ہے تو بھلا پھر ممکن ہے کہ کوئی گناہ اس سے سرزد ہو سکے؟ ہرگز نہیں۔ یہ ایک فطرتی قاعدہ ہے کہ جب یقین اور قطعی علم ہو کہ اس جگہ قدم رکھنا ہلاکت ہے یا ایک سوراخ جس میں کالا سانپ ہو اور یہ خود اسے دیکھ بھی لیوے تو کیا اس میں انگلی ڈال سکتا ہے؟ یا ایک ایسے جنگل میں جہاں اس کو یقین ہو کہ ایک خونخوار شیر ہے تنہا بغیر کسی ہتھیار کے جا سکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ غرض یہ فطرت انسانی میں ہی رکھا گیا ہے کہ جہاں اس کو ہلاکت کا یقین ہوتا ہے اس جگہ سے بچتا اور پر ہیز کرتا ہے۔ جب تک اس درجہ تک خدا کی معرفت نہ