ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 221

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۱ جلد دہم فرمایا۔ دیکھو! جس طرح جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور کتاب کو ماننے کا دعویٰ کر کے ان کے احکام کی تفصیلات مثلاً نماز ، روزہ، حج ، زکوۃ ، تقوی طہارت کو بجا نہ لاوے اور ان احکام کو جو تزکیہ نفس، ترک شر اور حصول خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں چھوڑ دے وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے اور اس پر ایمان کے زیور سے آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آسکتا۔ اسی طرح سے جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا یا ماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرضِ رسالت سے بے خبر محض ہے اور وہ اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ اس کو سچا مسلمان، خدا اور اس کے رسول کا سچا تابعدار اور فرمانبردار کہہ سکیں کیونکہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن شریف میں اور احکام دیئے ہیں اسی طرح سے آخری زمانہ میں ایک آخری خلیفہ کے آنے کی پیشگوئی بھی بڑے زور سے بیان فرمائی ہے اور اس کے نہ ماننے والے اور اس سے انحراف کرنے والوں کا نام فاسق رکھا ہے۔ قرآن اور حدیث کے الفاظ میں فرق ( جو کہ فرق نہیں بلکه بالفاظ دیگر قرآن شریف کے الفاظ کی تفسیر ہے ) صرف یہ ہے کہ قرآن شریف میں خلیفہ کا لفظ بولا گیا ہے اور حدیث میں اسی خلیفہ آخری کو مسیح موعود کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پس قرآن شریف نے جس شخص کے مبعوث کرنے کے متعلق وعدے کا لفظ بولا ہے اور اس طرح سے اس شخص کی بعث کو ایک رنگ کی عظمت عطا کی ہے۔ وہ مسلمان کیسا ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں اس کے ماننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ خلفاء کے آنے کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک لمبا کیا ہے اور اسلام میں یہ ایک شرف اور خصوصیت ہے کہ اس کی تائید اور تجدید کے واسطے ہر صدی پر مجدد آتے رہے اور آتے رہیں گے۔ دیکھو ! اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ کیا کے لفظ سے ثابت ہوتا ہے۔ شریعت موسوی کے آخری خلیفہ حضرت عیسی تھے جیسا کہ خود وہ فرماتے ہیں کہ میں آخری اینٹ ہوں اسی طرح شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اس کی خدمت اور تجدید کے واسطے ہمیشہ خلفاء آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے اور اس طرح سے آخری خلیفہ کا نام بلحاظ