ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 222

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۲ جلد دہم مشابہت اور بلحاظ مفوضہ خدمت کے مسیح موعود رکھا گیا۔ اور پھر یہی نہیں کہ معمولی طور سے اس کا ذکر ہی کر دیا ہو بلکہ اس کے آنے کے نشانات تفصیلاً کل کر دیا ہو بلکہ اس کتب سماوی میں بیان فرما دیئے ہیں۔ بائبل میں، انجیل میں ، احادیث میں اور خود قرآن شریف میں اس کی آمد کی نشانیاں دی گئی ہیں اور ساری قو میں یہودی، عیسائی اور مسلمان متفق طور سے اس کی آمد کے قائل اور منتظر ہیں پس ایسا ایک شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے ایسی عظمت دی اور جس کی آمد کی ساری قو میں متفق طور سے منتظر ہیں اس کا انکار کر دینا یہ کس طرح سے اسلام ہو سکتا ہے؟ اور پھر جبکہ وہ ایک ایسا شخص ہے کہ اس کے واسطے آسمان پر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید میں نشان ظاہر کئے اور زمین پر بھی معجزات دکھائے ۔ اس کی تائید کے واسطے طاعون آیا اور کسوف خسوف اپنے مقررہ وقت پر بموجب پیشگوئی عین وقت پر ظاہر ہو گیا۔ تو کیا ایسا شخص جس کی تائید کے واسطے آسمان نشان ظاہر کرے اور زمین الوقت کہے وہ کوئی معمولی شخص ہوسکتا ہے کہ اس کا ماننا اور نہ ماننا برابر ہو اور لوگ اسے نہ مان کر بھی مسلمان اور خدا کے پیارے بندے بنے رہیں؟ ہر گز نہیں ۔ یا د رکھو کہ موعود کے آنے کے گل علامات پورے ہو گئے ہیں۔ طرح طرح کے مفاسد نے دنیا کو گندہ کر دیا ہے خود مسلمان علماء اور اکثر اولیاء نے مسیح موعود کے آنے کا یہی زمانہ لکھا ہے کہ وہ چودھویں صدی میں آئے گا۔ حج الکرامہ میں بھی اسی چودھویں صدی کے متعلق لکھا ہے اور کوئی بھی نہیں جو اس صدی سے آگے بڑھا ہو ۔ تیرھویں صدی سے تو جانوروں نے بھی پناہ مانگی تھی اور لکھا ہے کہ اب چودھویں صدی مبارک ہوگی ۔ اس قدر متفقہ شہادت کے بعد بھی جو کہ اولیاء اور اکثر علماء نے بیان کی ۔ اگر کوئی شبہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ قرآن شریف میں تدبر کرے اور سورۃ النور کو غور سے مطالعہ کرے۔ دیکھو! جس طرح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد حضرت عیسی آئے تھے اسی طرح پر یہاں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودہویں صدی ہی میں مسیح موعود آیا ہے اور جس طرح ی سلسلہ موسوی کے خاتم الخلفاء تھے ۔ اسی طرح ادھر بھی مسیح موعود خاتم الخلفاء ہوگا۔ اسلام اس وقت اس بیمار کی طرح تھا جس کی زندگی کا جام لبریز ہو چکا ہو۔ اسلام پر ظلم کیا گیا ت