ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 220

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۰ جلد دہم اور صنعت و حرفت والا اپنے کاروبار کو ترک کر دے اور ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھ جائے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ ( النور : (۳۸) والا معاملہ ہو۔ دست با کار دل با یار والی بات ہو۔ تاجر اپنے کاروبار تجارت میں اور زمیندار اپنے امور زراعت میں اور بادشاہ اپنے تخت حکومت پر بیٹھ کر، غرض جو جس کام میں ہے اپنے کاموں میں خدا کو نصب العین رکھے اور اس کی عظمت اور جبروت کو پیش نظر رکھ کر اس کے احکام اور امر و نواہی کا لحاظ رکھتے ہوئے جو چاہے کرے ۔ اللہ سے ڈر اور سب کچھ کر۔ اسلام کہاں ایسی تعلیم دیتا ہے کہ تم کا روبار چھوڑ کر لنگڑے لولوں کی طرح لکھے بیٹھے رہو اور بجائے اس کے کہ اوروں کی خدمت کرو خود دوسروں پر بوجھ بنو۔ نہیں بلکہ سست ہونا گناہ ہے۔ بھلا ایسا آدمی پھر خدا اور اس کے دین کی کیا خدمت کر سکے گا۔ عیال واطفال جو خدا نے اس کے ذمے لگائے ہیں ان کو کہاں سے کھلائے گا ؟ پس یا درکھو کہ خدا کا یہ ہرگز منشا نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کر دو ۔ بلکہ اس کو جو منشا ہے وہ یہ ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا ( الشمس : ۱۰) تجارت کرو، زراعت کرو، ملازمت کرو اور حرفت کرو، جو چاہو کرو مگر نفس کو خدائی نافرمانی سے روکتے رہو اور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خدا سے غافل نہ کر دیں پھر جو تمہاری دنیا ہے وہ بھی دین کے حکم میں آجاوے گی ۔ انسان دنیا کے واسطے پیدا نہیں کیا گیا۔ دل پاک ہو اور ہر وقت یہ کو اور تڑپ لگی ہوئی ہو کسی طرح خدا خوش ہو جائے تو پھر دنیا بھی اس کے واسطے حلال ہے ۔ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ( بعد نماز جمعه ) سوال کیا گیا کہ ہم اللہ اور اس کی کتاب قرآن شریف مسیح موعود کو ماننے کی ضرورت اور اور اس کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو صدق دل سے مانتے ہیں اور نماز روزہ وغیرہ اعمال بھی بجالاتے ہیں۔ پھر ہمیں کیا ضرورت ہے کہ آپ کو بھی مانیں؟ له الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۹ ، ۵۰ مورخه ۱ ۱۲ نمبر ۴۹ ، ۵۰ مورخه ۲۶، ۳۰ الست ۱۹۰۸ء ر اگست ۱۹۰۸ صفحه ۳، ۴