ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 211

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۱ جلد دہم ہم اس معاملہ میں صاحب تجربہ ہیں ۔ جس طرح سے اب اترتا ہے اسی طرح پہلے اترتا تھا۔ اس میں اعتراض کی بات ہی کیا ہے اور خلاف قانون کسی امر کو کہا جاتا ہے۔ خلاف قانون تو جب کوئی کہہ سکتا ہے کہ کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے سارے اسرار کا مطالعہ کر لیا ہے اور سارے قانونِ ؟ قدرت کا اس نے احاطہ کر لیا ہے۔ پھر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں امر قانونِ قدرت کے خلاف ہے مگر جب خدا کی قدرت کا کوئی انتہا ہی نہیں پاسکا تو پھر یہ دعویٰ کیسا ؟ ہمارے الہامات کی کتاب تو بنیاد ہی ہے مگر شریعت نہیں ہے۔ شریعت وہی ہے جو آنحضرت لائے اور جو قرآن شریف نے دنیا کو سکھلائی ۔ ایک نقطہ نہ گھٹایا گیا نہ بڑھایا گیا ہے۔ خدا جس طرح پہلے دیکھتا تھا اب بھی دیکھتا ہے اسی طرح جس خدا تعالیٰ اب بھی کلام کرتا ہے طرح سے پہلے کلام کرتا تھا اب بھی صفت تظلم اس میں موجود ہے ۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب خدا کلام نہیں کرتا ۔ کیا خیال کیا جا سکتا ہے کہ پہلے تو خدا سنتا تھا مگر اب نہیں سنتا ۔ پس اللہ تعالیٰ کے تمام صفات جو پہلے موجود تھے اب بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔ خدا میں تغیر نہیں ۔ شریعت چونکہ تکمیل پاچکی ہے۔ لہذا اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة : ۴) پس اکمال دین کے بعد اور کسی نئی شریعت کی حاجت نہیں ۔ فرمایا۔ خدا جس کو حکومت دیتا ہے اسے فراست بھی عطا فرماتا ہے بشرطیکہ وہ خود فراست اپنے اس پاک جوہر کو شرارت یا تعصب کی کدورت سے مکدر نہ کر دے۔ نیک طبع دکام کو اللہ تعالی تائید غیبی سے بعض ایسے امور میں جن میں حق و باطل پوشیدہ ہوتا ہے حق ظاہر کر دیتا ہے اور فراست صحیحہ سے وہ اس امر کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں ۔ پھر ان کو اور دلائل کی بھی ضرورت نہیں رہتی ۔ ہمارے اس مقدمہ کی حالت جو ڈگلس کے سامنے پیش ہوا تھا اس میں غور کرنے والے کے