ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 212

ملفوظات حضرت مسیح موعود واسطے کئی نشان موجود ہیں ۔ ۲۱۲ جلد دہم اصل بات یہ ہے کہ فراست اچھی چیز ہے۔ انسان اندر ہی اندر سمجھ جاتا ہے کہ یہ سچا ہے۔ سچ میں ایک جرات اور دلیری ہوتی ہے۔ جھوٹا انسان بزدل ہوتا ہے۔ وہ جس کی زندگی ناپا کی اور گندہ گناہوں سے ملوث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اور مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرات سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کر سکتا اور اپنی پاکدامنی کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ دنیوی معاملات میں ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذراسی بھی خدا نے خوش حیثیتی عطا کی ہو اور اس کے حاسد نہ ہوں ۔ ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرور ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔ یہی حال دینی امور کا ہے۔ شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ اپنا حساب صاف رکھے اور خدا سے معاملہ درست رکھے ۔ خدا کو راضی کرے ۔ پھر کسی سے نہ خوف کھائے اور کسی کی پروانہ کرے۔ ایسے معاملات سے پر ہیز کرے جن سے خود ہی مورد عتاب ہو جاوے مگر یہ سب کچھ بھی تائید غیبی اور توفیق الہی کے سوا نہیں ہو سکتا ۔ صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خدا کا فضل بھی شاملِ حال نہ ہو ۔ خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء:۲۹) انسان ناتواں ہے۔ غلطیوں سے پر ہے۔ مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ پس دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے اور تائیدات غیبی اور فضل کے فیضان کا وارث بنادے۔ تو گل اصل میں تو گل ہی ایک ایسی چیز ہے کہ انسان کو کامیاب و با مراد بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق : ۴) جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اللہ اس کو کافی ہو جاتا ہے بشرطیکہ سچے دل سے توکل کے اصلی مفہوم کو سمجھ کر صدق دل سے قدم رکھنے والا ہو اور صہ ہوا اور صبر کرنے والا اور مستقل مزاج ہو۔ مشکلات سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹ جاوے۔ دنیا گذشتنی اور گذاشتنی ہے اور اس کے کام بھی ایسے ہی ہیں ۔ پس انسان کو لازم ہے کہ اس کا غم کم کرے اور آخرت کا فکر زیادہ رکھے ۔ اگر دین کے غم انسان پر غالب آجاویں تو دنیا کے کاروبار کا خود خدا متکفل ہو جاتا ہے۔