ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 209

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۹ جلد دہم عبادت گاہوں اور مساجد میں ایک ادنی مسلمان بادشاہ وقت کے برابر بلکہ اس کے آگے کھڑا ہو سکتا ہے اور دنیوی ثروت اور جاہ و جلال کا کوئی اثر ان کی مسجدوں میں باقی نظر نہیں آتا حالانکہ عیسائیوں میں ایک خاص یورپ کا عیسائی کبھی دیسی عیسائیوں سے گرجا میں بھی اکٹھا نہیں ہو سکتا حتی کہ ان میں گرجا میں بھی کرسیوں کے درجے موجود ہوتے ہیں۔ غرض مسلمانوں میں بڑے بڑے برکات ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور اب بھی ہیں ۔ آپ ان معاملات میں غور کریں اور اپنے علم کو بڑھاویں۔ بغیر معلومات وسیع کے آپ کو ایسا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کئے کہ عیسائی مسلمانوں سے نیکی، تقویٰ، طہارت میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ہر امر میں حکم نسبتا لگایا جاتا ہے۔ مسلمان نسبتاً ان سے نیکی میں تقویٰ میں ، طہارت میں ، خدا ترسی میں بہت آگے بڑھے ہوئے ہیں ۔ باقی رہی یہ بات کہ مسلمانوں میں باہمی اتفاق نہیں ہے سو اس کے متعلق تو اللہ تعالیٰ کا خود بھی منشا ہے اور اس میں رحمت ہے۔ البتہ ایک حد تک جب خدا کو منظور ہوگا خود بخود اتفاق اور اتحاد بھی پیدا ہو جاوے گا۔ مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہمیشہ شاملِ حال رہا ہے کہ خدا ان کو گرنے کے وقت سنبھال لیتا ہے حالانکہ اور قو میں اس سے محروم ہیں۔ مشکلات بھی دن اور رات مشکلات بھی دن اور رات کی طرح ہر قوم کے ساتھ دورہ کرتی ہیں مگر خدا تعالیٰ نے ہمیشہ مسلمانوں کو ایسی اوقات میں تائید غیبی سے سنبھال لیا ہے۔ جس صلح کے آپ خواہش مند ہیں وہ تو ہمارے خیال میں نفاق ہے اور ہم ایسی صلح کے دشمن ہیں۔ یہ کہنا کہ انگریز قوم بڑی علم دوست ہے کیسی ایک بیہودہ بات ہے۔ علم بھی ایک طاقت ہے۔ انسان اس طاقت کے ذریعہ سے ہر ظلمت اور ذلیل عقائد سے بچ جاتا ہے۔ ان کا علم کیا خاک علم ہے کہ ایک ناتواں کمزور اور ضعیف انسان جو کہ معمولی انسانوں کی طرح ماں کے پیٹ سے قانون قدرت کے موافق پیدا ہوا اور دنیوی سختیوں اور تلخیوں سے بچنے کے مشکلات برداشت کرتا ہوا آخر یہودیوں کے ہاتھ سے طرح طرح کی ذلتیں سہتا اور ماریں کھاتا ہوا سولی پر چڑھایا گیا۔ ایسے ایک انسان کو خدا بنالیا۔ کیا علم اسی کا نام ہے؟ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ۔ جب کوئی بادشاہ بنتا ہے تو اس سے قسماً عہد لیا جاتا ہے کہ وہ انجیل کے احکام کی