ملفوظات (جلد 10) — Page 208
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۸ جلد دہم کو وہ دین کا پیشوا یقین کرتا ہے بُرا کہنے والے یا گالیاں دینے والوں سے سچی محبت اور اتفاق اور اتفاق رکھ سکے۔ ہمارے نزدیک تو ایسا انسان جو بایں ہمہ کسی سے محبت و مودت رکھتا ہے دنیا کا کتا اور منافق ہے کیونکہ ایک سچے مسلمان کی غیریت یہ چاہ سکتی ہی نہیں کہ وہ نفاق کرتا ہے۔ ابھی تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ ایک انگریز سیاح امریکہ سے ہمارے پاس آیا تھا ہم نے اس سے سوال کیا کہ آپ لوگ جو اتنی جان توڑ کوششیں کرتے ہو کہ لوگ آپ کا مذہب قبول کر لیں اور ساری دنیا کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں بھلا آپ یہ تو فرمائیں کہ عیسائی ہو کر آپ لوگوں نے کیا بنایا ہے کہ دوسرے وہ فائدہ اٹھا دیں گے۔ فسق و فجور میں عیسائی قوم نے جو ترقی کی ہے وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ۔ اکثر حصہ اس قوم کا ایسا ہے کہ خدا سے بھی برگشتہ ہے اور گویا کہ اپنے فعل سے بتا رہا ہے کہ خدا کی ان کو ضرورت ہی نہیں پائی جاتی ہے۔ اب کہیے کہ آپ ایک ایسی قوم کے کس طرح حامی بنتے ہیں جو خود ایسا اقرار کرتے ہیں۔ آپ کس طرح مسلمانوں سے ایسی خطرناک عادات اور فسق و فجور میں غرق شدہ قوم کی تقلید کرانا چاہتے ہیں جن پر خوف ہے کہ ان کے اعمال بد کی وجہ سے عذاب نازل ہو۔ خدا تقوی طہارت کو چاہتا ہے ۔ ہم مانتے ہیں کہ مسلمان بھی فاسق ہیں، فاجر ہیں ، مگر اس قوم کے مقابلہ میں نسبتاً دیکھا جاوے تو صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی زندگی ان کے مقابلہ میں ہزار درجہ بہتر ہے۔ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں میں توحید کی برکت سے یہ فسق و فجور اور بے غیرتی پیدا نہیں ہونے دی۔ خود بعض انگریز مصنفوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ مسلمان قوم دنیا میں غنیمت ہے اور عیسائی اقوام کے مقابلہ میں ان کی زندگی ہزار درجہ بہتر ہے۔ عیسائی قوم کے واسطے کفارہ کی جو راہ کھلی ہے اس کے ذریعہ سے اس قوم میں کون سا گناہ ہے جو جرات اور دلیری سے کیان سے کیا نہیں جاتا ؟ اور وہ کون سی بدی ہے جس کے کرنے سے کسی عیسائی کو کوئی روک پیدا ہو سکتی ہے؟ اصل میں کفارہ کا عقیدہ ہی ان میں ایسا ہے کہ سارے حرام ان کے واسطے حلال ہو گئے ورنہ کفارہ باطل ہوتا۔ ہوتا ہے۔ نورافشاں جو عیسائیوں کا ایک معتبر اخبار ہے اسی میں ایک دفعہ لکھا گیا تھا کہ مسلمانوں میں ان کی