ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 205

ملفوظات حضرت مسیح موعود جوں جوں دوا کی۔ ۲۰۵ جلد دہم فرمایا۔ اکثر ایسے مریض جن کے لئے ڈاکٹر بھی فتوی دے چکتے ہیں اور کوئی سامان ظاہری زندگی کے نظر نہیں آتے ۔ ان کے واسطے دعا کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو معجزانہ رنگ میں شفا اور زندگی عطا کرتا ہے گویا کہ مردہ زندہ ہونے والی بات ہوتی ہے۔ حضرت عیسی کے مردوں کو زندہ کرنے حضرت عیسی علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا کے جو قصے مشہور ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں جھوٹ کی بہت کچھ ملاوٹ کی گئی ہے ورنہ اگر ہزاروں مردے زندہ ہو جاتے تو یہودی کیا بالکل ہی اندھے ہو گئے تھے کہ ایسا کھلا کھلا نشان دیکھ کر بھی کہ جس میں غیب بالکل اٹھ گیا اور گویا کہ خدا خود سامنے نظر آ گیا ایسی حالت دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے ۔ کیا وہ ایسے ہی قسی القلب تھے کہ ایمان لانا تو در کنار بلکه خود حضرت مسیح کو جن کے لئے ایسے ایسے معجزات خدا نے دکھائے کہ گویا آسمان کے گل پر دے اٹھا دیئے ان کو پکڑ کر سولی دیا اور ان کے سر پر کانٹوں کا تاج پہنایا۔ اصل بات یہی ہے کہ زمانہ دراز گذرا ہے ۔ اصل کتاب موجود نہیں ۔ نرے تراجم ہی تراجم رہ گئے ہیں۔ خدا جانے کیا کچھ ان لوگوں نے اپنی طرف سے بڑھایا اور کیا کیا نکال دیا۔ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ فرمایا کہ خدا کے معجزات تو ہوتے ہیں مگر ان سے فائدہ صرف مومن ہی اٹھاتے ہیں۔ بے ایمان لوگ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور محروم ہی رہ جاتے ہیں کیونکہ معجزات میں بھی ایک قسم کا پردہ اور غیب ضرور ہوتا ہے۔ مکرمی جناب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے مسیحیت کی ناقص تعلیم کے نتائج ذکر کیا کہ بعض انگریز ان پادریوں سے سخت متنفر لے یہ شعر مکرمی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن نے پڑھا تھا۔ اور یہ بھی عرض کیا تھا کہ حضور کا شعر تو یہ ہے کہ وو مرض گھٹتا گیا جوں جوں دوا دی (ایڈیٹر )