ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 206

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۶ جلد دہم ہوتے ہیں حتی کہ بعض تو گرجوں کی بجائے اس کے کہ ان میں نماز پڑھیں کسی اور مفید کام پر لگا لینا بہتر جانتے ہیں ۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اکثر ایسے کہ وہ تو خدا سے انکار کر بیٹھے ہیں کیونکہ عیسائی ہو کر سب سے پہلی نیکی شراب پینا ہے اور پھر آگے جوں جوں ترقی کرے گا اور اپنے کمال کو پہنچے گا تو کفارہ پر ایمان لاوے گا اور یقین کرے گا کہ شریعت لعنت ہے اور کہ حضرت مسیح ساری امت کے گناہوں کے بدلے پھانسی پا کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو دے گا۔ پھر گناہ کرے گا اور پیٹ بھر کر کرے گا اور اسے کسی کا خوف نہ ہوگا اور خوف ہو تو کیسے؟ کیا مسیح ان کے لئے پھانسی نہیں دیا گیا ؟ غرض یہ تو ان کی عملی حالت ہے پھر دنیا کو خدائی کا جونمونہ دیا گیا تھا وہ ایسا کمزور اور ناتواں نکلا کہ تھپڑ کھائے ۔ پھانسی دیا گیا اور دشمنوں کا کچھ نہ کر سکا۔ پس انہی باتوں سے وہ خدا کے بھی منکر ہو گئے ہیں اور وہ لوگ بیچارے ہیں بھی معذور ۔ کیونکہ یہ سب امور فطرت انسانی کے بالکل خلاف پڑے ہیں۔ بھلا کفارہ ایسی بیہودہ تعلیم سے بجز نا پاک زندگی کے اور ایسے کمزورونا تو اں خدا کے ماننے سے بجز ذلت و ادبار کی مار کے اور حاصل ہی کیا ؟ انہوں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ ایسے خدا سے ہم یونہی اچھے ہیں۔ یہ ان کا قصور نہیں بلکہ تعلیم کا قصور ہے۔ آریوں کو دیکھا جاوے تو انہوں نے ذرہ ذرہ کو خدا بنا رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے اعمال ہی ان کے سکھ اور دکھ کا باعث ہیں گویا ان کے اعمال ہی ان کا خدا ہیں ۔ غور کا مقام ہے کہ ذرات عالم مع اپنے خواص کے خدا کی طرح ازلی ابدی ہیں تو پھر خدا کو ان پر فضیلت کیسی اور حکم کیسا ؟ خواہ مخواہ مداخلت بے جا کر کے ان کی آزادی میں تصرف کرنے کا حق ہی کیا تھا خدا کا ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے کہ وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَ نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا (الكهف : ١٠٠) موجوده آزادی کی وجہ سے انسانی فطرت نے ہر طرح کے رنگ ظاہر کر دیئے ہیں اور تفرقہ اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے۔ گو یا ایسا زمانہ ہے کہ ہر شخص کا ایک الگ مذہب ہے۔ یہی امور دلالت کرتے ہیں کہ اب