ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 204

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۴ جلد دہم تبدیلی ضرور ہوتی ہے۔ شاذ و نادر پر اعتراض کرنا ایمانداری نہیں ہے بلکہ قرآن شریف نے تو نکتہ چینی کرنے سے بھی منع فرمایا ہے ۔ كَذلِكَ كُنْتُم مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ (النساء : ۹۵) یعنی تم بھی تو ایسے ہی تھے۔ خدا نے تم پر احسان کیا۔ غور سے دیکھا جاوے تو جو کچھ ترقی اور تبدیلی ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے وہ زمانہ بھر میں اس وقت کسی دوسرے میں نہیں ہے۔ دیکھو! آنحضرت کی وفات کے بعد دنیا میں کیسا طوفان ارتداد بر پا ہوا تھا کہ سوائے چند ایک جگہ کے جماعت بھی نہ ہوتی تھی ۔ معترض کو کوئی خاص عناد اور بغض ہے اور اس نے ظلم کیا ہے اور خواہ مخواہ حملہ کیا ہے ورنہ ان لوگوں کی تبدیلی تو حیرت میں ڈالتی ہے۔ معترض غیب دان تو ہے نہیں کہ دوسرے کے دل کے خیالات نیک و بد پر اطلاع پاسکے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اندر ہی اندر تبدیلی کرتا ہے اور خدا سے ایک خاص خلوص اور تعلق محبت رکھتا ہے ۔ مگر وہ دوسروں کی نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ لے ۲۴ را پریل ۱۹۰۸ء فرمایا کہ بیماریوں میں جہاں قضاء مبرم ہوتی ہے دعا کے نتیجہ میں امراض سے شفا وہاں تو کسی کی پیش ہی نہیں جاتی اور جہاں ایسی نہیں وہاں البتہ بہت سی دعاؤں اور توجہ سے اللہ تعالیٰ جواب بھی دے دیتا ہے اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشابہ بمبرم ہوتی ہے اس کے ٹلا دینے پر بھی خدا قادر ہے۔ یہ حالت ایسی خطرناک ہوتی ہے کہ تحقیقات بھی کام نہیں دیتی اور ڈاکٹر بھی لا علاج بتا دیتے ہیں مگر خدا کے فضل کی یہ علامت ہوتی ہے کہ بہتر سامان پیدا ہوتے جاویں اور حالت دن بدن اچھی ہوتی جاوے ورنہ بصورت دیگر حالت مریض کی دن بدن رڈی ہوتی جاتی ہے اور سامان ہی کچھ ایسے پیدا ہونے لگتے ہیں کہ مرض بڑھتا گیا لیے الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ مورخه ۲۶ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۲،۱