ملفوظات (جلد 10) — Page 203
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۳ جلد دہم خطرناک اور شدید دورہ ہوتا ہے کہ انسان پاگل ہو جاتا اور آخر کار پی ہی لیتا ہے خواہ پھر ہوش سنبھالنے پر تو بہ ہی کرلے ۔ فرمایا۔ وہ معاصی کا دورہ ہوتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی بات انہونی نہیں ہے۔ جہاں قوت ایمانی ہو وہاں معاصی ٹھہر ہی نہیں سکتے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی کی طرف دیکھا جاوے کہ انہوں نے حرمت کی آیت نازل ہونے کے بعد کیسی چھوڑی کہ پھر اس تو بہ کی حالت میں ہی مر گئے ۔ وہاں تو شراب نے کبھی دورہ نہ کیا اور نہ ہی کسی کو ایسا از خود رفتہ کر لیا کہ وہ مجبور ہو جاتا۔ حکم حرمت کے دن شہر کی گلیوں میں ٹخنوں تک بہہ نکلی ۔ مگر یہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور تاثیر کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کے ایمان ایسے قوی ہو گئے تھے کہ شراب بھی جس کا وہ لوگ پانی کی جگہ استعمال کرتے تھے شرک کی طرح ایسی نابود ہوئی کہ پھر نہ عود کر سکی۔ آنحضرت کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے کیسا معصوم رکھا تھا کہ باوجود یکہ آپ کے تمام رشتہ دار اور اقرباء اور ہم قوم اس خبیث چیز کے استعمال میں مستغرق تھے اور آنحضرت نے اپنی ابتدائی چالیس سالہ زندگی انہی لوگوں میں بسر کی مگر کسی کا اثر آپ پر نہ ہوا۔ گویا روز ازل ہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم بنایا تھا اور یہ آپ کی فطرت سلیم کی اور عصمت کی ایک خاص دلیل ہے۔' ۲۲ را پریل ۱۹۰۸ء کسی شخص کا یہ اعترض پیش ہوا کہ احمد یوں احباب جماعت پر نکتہ چینی نامناسب ہے نے کوئی تبدیلی پیدانہیں کی بات بات پر آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ فرمایا۔ ایسے اعتراض بار یک در بار یک بغض کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کیا شرک گناہ اور ناپاک زندگی سے توبہ کرنا تبدیلی نہیں ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص بیعت کر کے جاتا ہے اس میں الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ مورخه ۲۶ را پریل ۱۹۰۸ ء صفحه ۱