ملفوظات (جلد 10) — Page 193
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۳ جلد دہم اور صدق خلوص کا اظہار کر دیا ہے تو وہ لوگ معذور ہیں اور بعض وہ لوگ جو اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مکفرین میں داخل نہیں ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اس قسم کا ایک اشتہار دے دیں کہ وہ ہمارے مکفرین میں سے نہیں ہیں اور جو لوگ ہم کو کافر وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں ان سے اپنے آپ کو یوں الگ کر دیں بلکہ یہ بھی لکھ دیں کہ جو لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں وہ آنحضرت کی حدیث کے مطابق ایک مسلمان کو کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہیں ۔ لیکن چپکے چپکے کبھی ہم میں آئے تو ہمارے بن بیٹھے اور ان میں گئے تو ان کے ہو گئے ۔ یہ ایمانداروں کی روش نہیں ہے۔ ہم کوئی غیب کا علم تو رکھتے نہیں کہ کسی کے دل کی حالت سے ہمیں آگاہی ہو جاوے۔ پس یہ ایک راہ ہے کہ جس سے یہ لوگ اگر ان کے دلوں میں کوئی نفاق کا مرض نہیں ہے تو ہمارے مکفرین میں سے الگ ہوکر الگ ایک جماعت بن سکتے ہیں اور اگر فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا (البقرة:11 ) والا معاملہ ہے اور ان کے دلوں میں واقعی نفاق کی آگ ہے تو اس طرح سے ان کی بیماری اور بھی زیادہ ہو جاوے گی اور ظاہر ہو جاوے گی ۔ اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حُبّ دنیا کا غلبہ بھی سلب ایمان کا باعث ہو جایا کرتا ہے لہذا دنیوی امور میں بہت انہماک اور دنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین، ایمان اور آخرت کی پرواہی نہ رہے۔ یہ بھی خطرناک زہر یلا مرض ہے۔ یہ تو وہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرم نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ ، درختوں کے تنوں سے لگ جاؤ اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔ پس اگر بحالت مجبوری کوئی احمدی اکیلا ہی ہو تو اسے تنہا ہی نماز گزار لینی چاہیے اور کوشش اور دعا کرنی چاہیے کہ خدا اسے جماعت بنادے۔ بعض اصل میں مومن کو بھی تبلیغ دین میں حفظ مراتب کا دفعہ سختی کرنا ضروری ہوتا ہے خیال رکھنا چاہیے۔ جہاں نرمی کا موقع ہو وہاں سختی 200