ملفوظات (جلد 10) — Page 194
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۴ جلد دہم اور درشتی نہ کرے اور جہاں بحر سختی کرنے کے کام ہوتا نظر نہ آوے وہاں نرمی کرنا بھی گناہ ہے۔' ع گر حفظ مراتب نه کنی زندیقی دیکھو ! فرعون بظاہر کیسا سخت کافر انسان تھا مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسی کو یہی ہدایت ہوئی کہ قُولا لَهُ قَوْلًا لَيْنَا (طه : ۴۵) رسول اکرم کے واسطے بھی قرآن شریف میں اسی قسم کا حکم ہے وَ اِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا ( الانفال : ۶۲) مومنوں اور مسلمانوں کے واسطے نرمی اور شفقت کا حکم ہے۔ رسول اللہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی ایسی ہی حالت بیان کی گئی جہاں فرمایا ہے کہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَ الَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ رورو بينهم (الفتح : ٣٠) چنانچہ ایک دوسرے مقام پر آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ منافق اور کفار کا سختی سے مقابلہ کرو چنانچہ فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمُ (التوبة : ۷۳) غرض ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود خدا تعالیٰ نے بھی حفظ مراتب کا لحاظ رکھا ہے۔ مومنین اور ایمانداروں کے واسطے کیسی نرمی کا حکم ہے اور کفار میں سے بعض میں مادہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ ان کو سختی کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح سے بعض بیماریوں یا زخموں میں ایک حکیم حاذق کو چیر پھاڑی اور عمل جراحی سے کام لینا پڑتا ہے۔ حضرت ابن عربی لکھتے ہیں کہ فرعون کے لئے کیوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی کو نرمی کا سلوک کرنے کی ہدایت کی ۔ اس میں بھید یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آخر اسے ایمان نصیب ہو جاوے گا۔ چنانچہ امنت کا لفظ اسی کے منہ سے نکلا۔ بلکہ وہ تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ قرآن شریف سے اس کی نجات بھی ثابت ہے ۔ قرآن شریف میں یہ نہیں لکھا کہ فرعون جہنم میں داخل ہوگا ۔ صرف یہی لکھا ہے کہ يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ( هود : ٩٩) لے بدر سے ۔ ہر معترض سے جو باوجود سمجھانے کے پھر بھی اعتراض کرتا چلا جائے نرمی کا برتاؤ ٹھیک نہیں ۔“ 66 ( بدر جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۲۳ را پریل ۱۹۰۸ صفحه ۴)