ملفوظات (جلد 10) — Page 187
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۷ جلد دہم کی ہتک اور کسر شان ہے۔ مردمی اس میں ہے کہ جو کام وہ کرتے تھے وہ کام کئے جاویں اور ان کی تعلیم پر عمل درآمد کر کے اچھا نمونہ دکھانے کے ذریعہ دکھا یا جاوے کہ وہ خود اعلیٰ قسم کے انسان تھے اور ان کے انفاس میں تزکیہ کا اثر اور تعلیم میں اعلیٰ درجہ تک ترقی کرنے کی طاقت موجود تھی۔ زبانی تعریف کرنے میں غلو کرنے سے کیا فائدہ؟ کیا ان کی تعلیم کا اثر اسی زمانہ تک محدود تھا یا اب بھی ہے؟ اور اگر ہے تو کہاں؟ اور کس ملک میں؟ افسوس آتا ہے اگر عیسی اب آجاویں تو وہ تو اس قوم کو پہچان بھی نہ سکیں ۔ ہم ان سے محبت رکھتے ہیں اور آپ محبت نہیں رکھتے ہوں گے کیونکہ آپ کو ان کی خبر نہیں ۔ ہم نے تو ان کو بارہا دیکھا ہے۔ بلکہ ہم تو جانتے ہیں کہ اب بھی خود آپ لوگوں کے گھر میں ہی تفرقہ ہے اختلاف ہے۔ بعض ایسے فرقے عیسائیوں میں اب بھی موجود ہیں جو حضرت عیسی کو خدا نہیں مانتے بلکہ صرف ایک برگزیدہ نبی مانتے ہیں اور قرآن شریف سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے تو جب گھر میں ہی اختلاف ہے تو کیوں وہ راہ اختیار نہیں کی جاتی جو سلامتی کی راہ ہے؟ اور کیوں وہ راہ ترک نہیں کی جاتی جو کہ بالا تفاق خطرناک ثابت ہو؟ ہو چکی ہے؟ باقی رہا یہ کہ اب دنیا میں کیا ہوگا ؟ سو اس کے متعلق ہم صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ دنیا اپنی اس موجودہ حالت پر نہیں رہے گی بلکہ اس میں ایک عظیم الشان تغیر اور انقلاب واقع ہوگا۔ سوال ۔ مسیح کو آپ نے کس طور سے دیکھا ہے؟ آیا جسمانی رنگ میں دیکھا ہے؟ جواب ۔ فرمایا کہ ہاں جسمانی رنگ میں اور عین حالت بیداری میں دیکھا ہے ۔ سوال ۔ ہم نے بھی مسیح کو دیکھا ہے اور دیکھتے ہیں مگر وہ روحانی رنگ میں ہے۔ کیا آپ نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح ہم دیکھتے ہیں ۔ جواب نہیں ہم نے ان کو جسمانی رنگ میں دیکھا ہے اور بیداری میں دیکھا ہے۔ اس تقریر کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کے واسطے چائے تیار ہے لہذا ان کو چائے پلائی جاوے