ملفوظات (جلد 10) — Page 188
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۸ جلد دہم اور اس طرح سے جلسہ برخاست ہوا۔ انگریزوں نے حضرت اقدس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور کچھ کھانا اور چائے پینے کے بعد مدرسہ کو دیکھتے ہوئے جہاں ایک طالب علم ہائی کلاس محمد منظور علی شاکر نے سورہ مریم کی چند ابتدائی آیات نہایت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائیں کیونکہ اس وقت ان کی قرآن شریف کی گھنٹی تھی ۔ قرآن شریف سن کر وہ خوش ہوئے اور پھر بٹالہ کو چلے گئے ۔ کھانا کھانے کے میز پر بیٹھے ہوئے انہوں نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے ایک سوال کیا کہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد کیا ہوگا ؟ جس کا جواب مفتی صاحب موصوف نے یوں دیا کہ آپ کی وفات کے بعد وہ ہوگا جو خدا کو منظور ہوگا اور جو ہمیشہ انبیاء کی موت کے بعد ہوا کرتا ہے ۔ کے ۱۱ راپریل ۱۹۰۸ء (بوقتِ سیر) کسی معترض کا ایک مرزا احمد بیگ کے بارہ میں پیشگوئی پر اعتراض کا جواب بھی حضرت مولانا خط مولوی سید محمد احسن صاحب کی خدمت میں آیا تھا جس میں اس نے مرزا احمد بیگ والی پیشگوئی پر اعتراض کیا تھا۔ حضرت مولوی صاحب موصوف نے حضرت اقدس کی خدمت میں بوقت سیر اس کا تذکرہ کیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسے آدمی سے پہلے یہ دریافت کرنا چاہیے کہ آیا تم کلمہ گو بھی ہو یا کہ نہیں؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اور انبیاء سابقین پر بھی ایمان رکھتے ہو یا کہ نہیں ؟ تعجب آتا ہے ایسے لوگوں کی حالت اور عقل پر کہ ہزار ہا قسم کے نشانات دیکھتے ہیں ان کی تو کچھ پروانہیں کرتے اور نہ ان سے کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر جب ایک ایسے امر کو جو متشابہات میں سے ہوتا ہے بوجہ اپنی کم فہمی اور وو الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۶ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۸ صفحه ۱ تا ۴ ہ بدر سے فرمایا ۔ شخص ہمیں چھپا ہوا نیم مرتد معلوم ہوتا ہے۔ ہزار ہا روشن نشانات دیکھنے کے بعد بھی ابھی اسے تاریکی ہی نظر آتی ہے یہ اس کی آنکھوں کا قصور ہے۔ اگر وہ اس قسم کے شبہات کرنے لگا تو قریب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اس کا ایمان نہ رہے ۔ ( بدر جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۲۳ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۴)