ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 186

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۶ جلد دہم یہ کافی نہ تھا کہ ان کو خدا کے ایک برگزیدہ بندے مان کر ان کی پیروی کی جاتی ؟ اور ان کے نقش قدم پر ان کا نمونہ اور رنگ اختیار کیا جاتا۔ انسان کا یہ کام نہیں کہ وہ خدا بن جاوے تو پھر اسے ایسے نمونے کیوں دیئے جاتے ہیں؟ جب کسی کو کوئی نمونہ دیا جاتا ہے تو اس سے نمونہ دینے والے کا یہ منشا ہوتا ہے کہ اس نمونہ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کی جاوے اور پھر وہ اس شخص کی طاقت میں بھی ہوتا ہے کہ اس نمونے کے مطابق ترقی کر سکے خدا جو فطرت انسانی کا خالق ہے اور اسے انسانی قومی کے متعلق پورا علم ہے اور کہ اس نے انسانی قوی میں یہ مادہ ہی نہیں رکھا کہ خدا بھی بن سکے تو پھر کیوں اس نے ایسی صریح غلطی کھائی کہ جس کام کے کرنے کی طاقت ہی انسان کو نہیں دی اس کام کے کرنے کے واسطے اسے مجبور کیا جاتا۔ کیا یہ ظلم صریح نہ ہوگا ؟ رسالت اور نبوت کے درجہ تک تو انسان ترقی کر سکتا ہے کیونکہ وہ انسانی طاقت میں ہے پس اگر حضرت عیسی خدا تھے تو ان کا آنا ہی لا حاصل ٹھہرتا ہے اور اگر ان کو نبی اور رسول مانا جاوے تو بے شک مفید ثابت ہوتا ہے۔ پھر اس میں خدا تعالیٰ کی بھی ہتک اور بے ادبی لازم آتی ہے۔ گو یا خدا نے بخل کیا کہ اپنی تجلیات کا مظہر صرف ایک ہی شخص کو ٹھہرایا اور اپنے فیوض کو صرف حضرت عیسی تک ہی محدود کر دیا۔ غور تو کرو اگر کسی بادشاہ کی رعا یا صرف ایک فرد واحد ہی ہو تو کیا اس میں اس بادشاہ کی تعریف ہے یا ہتک؟ یا اگر یہ کہا جاوے کہ بادشاہ کا فیض اور انعام صرف ایک خاص نفس واحد تک ہی محدود ہے تو پھر اس میں اس بادشاہ کی کیا بڑائی ہو گی ؟ پس جب خدا کے کروڑوں بندے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود تھے تو کیا وجہ کہ خدا نے اپنے فیوض کو صرف بنی اسرائیل ہی تک محدود رکھا ۔ دیکھو! بند پانی بھی آخر کا ر گندہ ہو جاتا ہے اور کیچڑ کی صحبت سے اس میں ایک قسم تعفن پیدا ہو جاتا ہے تو پھر خدا کے اوپر ایسا بہتان باندھنا کہ اس کے فیوض اور برکات صرف ایک خاص قوم تک ہی محدود اور بند ہیں خدا کی شان کی ہتک اور بے ادبی ہے۔ حضرت عیسی کے خدا بنانے میں فائدہ کیا ؟ اور ان کی شان میں ترقی کیا ؟ بلکہ الٹی اس میں تو ان