ملفوظات (جلد 10) — Page 181
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۱ جلد دہم حضرت عیسی کو بھی ہم اور انبیاء کی طرح خدا کا ایک نبی یقین کرتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ خدا کی راہ میں صدق اور اخلاص رکھنے والے لوگ خدا کے مقرب ہوتے ہیں۔ جس طرح خدا نے اپنے اور مخلص بندوں کے حق میں بباعث ان کے کمال صدق اور محبت کے بیٹے کا لفظ بولا ہے۔ اس طرح سے حضرت عیسی بھی انہی کی ذیل میں ہیں ۔ حضرت عیسی میں کوئی ایسی بڑی طاقت نہ تھی جو اور نبیوں میں نہ پائی جاتی ہو اور نہ ہی ان میں کوئی ایسی نئی بات پائی جاتی ہے جس سے دوسرے محروم رہے ہوں ۔ اگر حضرت عیسی میں مردے زندہ کرنے کی طاقت تھی تو اب بھی ان کا کوئی پیر و مردے زندہ کر کے دکھائے ۔ مردے زندہ کرنے تو در کنار بلکہ ہمارے مقابلہ میں کوئی نشان ہی دکھا دیوے ۔ دیکھو! انسان اپنی انسانی حدود اور ہیئت کے اندر ترقی مدارج کر سکتا ہے نہ یہ کہ وہ خدا بھی بن سکتا ہو جب انسان خدا بن ہی نہیں سکتا تو پھر ایسے نمونے کی کیا ضرورت جس سے انسان فائدہ نہیں اٹھا سکتا ؟ انسان کے واسطے ایک انسانی نمونے کی ضرورت ہے جو کہ رسولوں کے رنگ میں ہمیشہ خدا کی طرف سے دنیا میں آیا کرتے ہیں نہ کہ خدائی نمونہ کی جس کی پیروی انسانی مقدرت سے بھی باہر اور بالاتر ہے۔ ہم حیران ہیں کہ کیا خدا کا منشا انسانوں کو خدا بنانے کا تھا کہ ان کے واسطے خدائی کا نمونہ بھیجا تھا۔ پھر یہ اور بھی عجیب بات ہے کہ خدا ہو کر پھر یہود کے ہاتھ سے اتنی ذلت اٹھائی اور رسوا ہوا اور ان پر غالب نہ آسکا بلکہ مغلوب ہو گیا۔ سوال ۔ آپ نے جو دعوی کیا ہے اس کی سچائی کے دلائل کیا ہیں؟ جواب ۔ میں کوئی نیا نبی نہیں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں۔ توریت میں جن انبیاء کا ذکر ہے اور آپ ان کو سچا مانتے ہیں۔ جو دلائل ان کی صداقت کے اور ان کو نبی اور خدا کا فرستادہ یقین کرنے کے ہیں وہ آپ پیش کریں انہی دلائل میں میری صداقت کا ثبوت مل جائے گا۔ جن دلائل سے کوئی سچا نبی مانا جا سکتا ہے وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میں بھی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔ سوال نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ سے وہ دلائل سنیں جن سے آپ کو اپنے صدق کا یقین ہوا اور آپ کو