ملفوظات (جلد 10) — Page 182
ملفوظات حضرت مسیح موعود کیسے معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں ؟ ۱۸۲ پر جلد دہم جواب ۔ خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنے کلام سے اس بات کا علم دیا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے لوگوں کے ساتھ خدائی نشان ہوتے ہیں جو کہ اقتداری اور غیب پر مشتمل زبر دست پیشگوئیوں کے رنگ میں ان کو عطا کئے جاتے ہیں۔ کوئی دشمن ان پر فتح نہیں پا سکتا اور باوجود کمزور اور ناتواں اور بے سروسامان، بے یار و مددگار ہونے کے انجام کارا نہی کی فتح ہوتی ہے ان کی مخالفت کرنے والوں کا نام ونشان مٹا دیا جاتا ہے منجملہ ہزاروں نشانات کے آپ لوگوں کے واسطے تو ایک ڈوئی کا معاملہ ہی جو کہ آپ کے ملک میں ہی ظہور میں آیا ۔ اگر غور کریں تو کافی ہے۔ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ مسیح خدا ہے۔ مگر ہمارے خدا نے ہم پر یہ ظاہر کیا کہ وہ خدا نہیں بلکہ ایک عاجز انسان ہے۔ تب ہم نے اس سے اس معاملہ میں خط و کتابت کی مگر وہ اپنے دعوئی سے باز نہ آیا۔ آخر ہم نے خدا سے خبر پا کر اس کی ہلاکت اور نامرادی کی پیشگوئی کی ۔ جو ہماری زندگی میں پوری ہونی ضروری تھی ۔ چنانچہ ویسا ویسا ہی ظہور میں آیا اور وہ پیشگوئی کے مطابق نہایت ذلت اور عذاب سے صادق کی زندگی میں ہی ہلاک ہو گیا۔ اب کوئی غور کرنے والا دماغ اور مان لینے والا دل چاہیے کہ اس میں غور کرے کہ آیا یہ پیشگوئی اس قابل ہے یا کہ نہیں کہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کیا جاوے یا کیا یہ بھی کوئی انسانی منصوبہ ہے؟ دوم ۔ آپ لوگوں کا یہاں آنا بھی تو ہمارے واسطے ایک نشان ہے جو اگر آپ کو اس کا علم ہوتا تو شاید آپ یہاں آنے میں بھی مضائقہ اور تامل کرتے ۔ اصل میں آپ لوگوں کا اتنے دور دراز سفر کر کے یہاں ایک چھوٹی سی بستی میں آنا بھی ایک پیشگوئی کے نیچے ہے اور ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان اور دلیل ہے کہاں امریکہ اور کہاں قادیان ۔ مُردے زندہ کر لینا تو ایک طرف دھرا رہ گیا ایک کوڑھی ( مجذوم ) تو صحت یاب ہو نہ سکا اور اُسے تو حضرت مسیح چنگا نہ کر سکے تو مردے زندہ کرنا کیسا ؟ وہ باتیں تو ہزاروں سال کی ہیں اور خدا جانے ان میں کیا کچھ ملاوٹیں ہوگئی ہیں اور وہ تو صرف قصے کہانیوں کے رنگ میں باقی رہ گئی ہیں۔ ان کی صداقت کا کوئی نشان یا ان کے سچے