ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 180

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۰ جلد دہم بعض مردے زندہ ردے زندہ کئے تھے بلکہ وہ حضرت عیسی سے اس کام میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔ اگر فرض محال کے طور پر ہم مان بھی لیں کہ بائبل میں حضرت عیسی کا حقیقی مردوں کے زندہ کرنے کا ذکر ہے تو پھر ساتھ ہی ایلیا نبی کو بھی خدا ماننا پڑے گا۔ اس میں حضرت عیسی کی خدائی کی خصوصیت ہی کیا ہوئی ؟ اور ما بہ الامتیاز کیا ہوا ؟ بلکہ یسعیاہ نبی کے متعلق تو یہاں تک بھی لکھا ہے کہ مردے ان کے جسم سے چُھو جانے پر ہی زندہ ہو جایا کرتے تھے۔ ان باتوں سے جو کہ اس بائبل میں درج ہیں صاف شہادت ملتی ہے کہ مردوں کا زندہ کرنا حضرت مسیح کی خدائی کے واسطے کوئی دلیل نہیں ہو سکتا اور اگر اس کو دلیل مانا جاوے تو کیوں ان دوسرے لوگوں کو بھی جنہوں نے حضرت مسیح سے بھی بڑھ کر یہ کام کیا خدا نہ مانا جاوے اور خدائی کا خاصہ صرف حضرت مسیح کی ذات تک ہی محدود و مخصوص رکھا جاوے؟ بلکہ ہمارے خیال میں تو حضرت موسیٰ کا سوٹے کا سانپ بنانے کا معجزہ مردے زندہ کرنے سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ مردہ کو زندہ سے ایک تشبیہ اور لگاؤ بھی ہے کیونکہ وہی چیز ابھی زندہ تھی اور مُردے میں زندہ ہونے کی ایک استعدا د خیال کی جاسکتی ہے۔ مگر سانپ کو سوٹے سے کوئی بھی نسبت اور تعلق نہیں ہے وہ ایک نبات کی قسم کی چیز اور وہ سانپ ۔ تو یہ سوٹے کا سانپ بن جانا تو مردوں کے زندہ ہو جانے سے نہایت ہی عجیب بات ہے۔ لہذا حضرت موسیٰ کو بڑا خدا ماننا چاہیے۔ مگر حقیقی اور اصلی بات یہ ہے کہ ہم حقیقی مردوں کی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔ سوال ۔ حضرت مسیح ازلی ابدی ہیں اور وہ اب بھی زندہ ہیں اور اس وقت خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں ۔ ان کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس میں یہ خاصے پائے جاتے ہیں۔ جواب ۔ ہم قطعی طور سے انکار کرتے ہیں کہ کوئی حقیقی مردے بھی زندہ کر سکتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ - الخ ( الزمر : ۴۳) باقی رہے آپ کے دعوے سو ہم ان کو بغیر کسی دلیل کے قبول نہیں کر سکتے ۔ مردوں کے زندہ کرنے کے ساتھ ان کا خود ازلی ابدی ہونا اور اب زندہ اور خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہونا بھی آپ کے دعوے ہیں جن کی کوئی دلیل آپ نے پیش نہیں کی اور دلیل کی جگہ ایک اور دعوی پیش کر دیا ہے۔