ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 179

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۹ جلد دہم ہے ہم نے اسے صادق اور کاذب کے فیصلہ کرنے کے واسطے چیلنج دیا۔ اگر چہ مسیح کو ابن اللہ اور پھر واحد و یگانہ خدا ماننے والے لوگ دنیا میں بہت پائے جاتے ہیں مگر ان پر ایسا افسوس نہیں کیونکہ وہ خیالات اور عقائد صرف پرانے غلط اور مصنوعی قصے کہانیوں کی بنا پر ہیں اور وہ لوگ منقولات کے پیرو ہیں ۔ مگر ڈوئی نے تو اپنے اس دعوئی سے خدا پر ایک افترا کیا اور اس طرح سے خدا پر تہمت باندھ کر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہا تھا اور وہ تو کہتا تھا کہ خود خدا نے مجھے ایسا بتایا ہے اور بحیثیت ایک خدا کے رسول ہونے کے وہ مسیح کی ابنیت اور الوہیت کی منادی کر کے لوگوں کو گمراہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے اس فیصلہ کے واسطے چیلنج دیا۔ سوال ۔ ڈوئی نے تو ایک جھوٹا دعویٰ کیا تھا کیونکہ وہ اپنی صداقت ثابت نہیں کر سکا اور بائبل میں لکھا ہے کہ آخر زمانے میں جھوٹے نبی آئیں گے تو پھر آپ کے دعوی کی سچائی کی کیا دلیل ہے؟ جواب ۔ فرمایا۔ بائبل میں جہاں یہ لکھا ہے کہ جھوٹے نبی آئیں گے وہاں سچے نبی کے آنے کی نفی تو نہیں کی گئی۔ یہ تو نہیں لکھا کہ سچا نہیں آئے گا بلکہ جھوٹے نبیوں کا آنا خود بخود اس امر کی صراحت کرتا ہے کہ ان میں سچا بھی ہوگا۔ سوال ۔ حضرت مسیح نے مُردے زندے کئے تھے چنانچہ ایک شخص جس کا نام اسے زندہ کرنا ثابت ہے اور بائبل حضرت مسیح کی وفات کے بہت جلدی بعد ہی ضبط تحریر میں لائی گئی اور بجز حضرت مسیح کے کسی اور کا مر دے زندہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ پس یہ شہادت ان کے دعوی کی دلیل اور ثبوت کے واسطے کافی ہے۔ جواب ۔ مردوں کا زندہ ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بھی قرآن شریف میں مذکور ہے مگر ہم آنحضرت کے مُردے زندہ کرنے کو روحانی رنگ میں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی رنگ میں ۔ اور اسی طرح پر حضرت عیسی کا مُردے زندہ کرنا بھی روحانی رنگ میں مانتے ہیں نہ کہ جسمانی طور پر ۔ اور یہ امر کوئی حضرت عیسی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بائبل میں لکھا ہے کہ ایلیا نبی نے بھی لے یہاں نام درج نہیں ۔ (مرتب)