ملفوظات (جلد 10) — Page 178
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۸ جلد دہم را پریل ۱۹۰۸ء (ساڑھے دس بجے دن ) ایک امریکن میاں بیوی سے عیسائیت اور اپنی صداقت پر گفتگو ے را پریل ۱۹۰۸ ء کو ایک انگریز اور ایک لیڈی جنہوں نے اپنے آپ کو امریکہ (شکا گو) کے رہنے والے ظاہر کیا اور کہ وہ سیاحت کی غرض سے ملک بہ ملک پھر رہے ہیں اور ہندوستان میں بھی یہاں کے پولیٹیکل اور ریلیجس ۔ اور رییس حالات سے واقفیت حاص سے واقفیت حاصل کرنے کے وائ نے کے واسطے آئے ہیں لاہور سے بہمراہی ایک سکاچ انگریز قادیان میں قریب دس بجے کے پہنچے۔ مسجد مبارک کے نیچے کے دفتروں میں ان کو اچھی طرح سے بٹھایا گیا اور چونکہ انہوں نے حضرت اقدس سے ملاقات کرنے کی درخواست کی اس لئے حضرت اقدس بھی وہیں تشریف لے آئے اور سلسلہ گفتگو مترجم ( مترجم کا کام اول ڈپٹی علی احمد صاحب نے اور پھر جناب مفتی محمد صادق صاحب نے کیا ) کے ذریعہ سے یوں شروع ہوا۔ سوال ۔ ہم نے سنا ہے کہ آپ نے مسٹر ڈوئی کو کوئی چیلنج دیا تھا کیا یہ درست ہے؟ جواب ۔ ہاں یہ درست ہے ہم نے ڈوٹی کو چیلنج دیا تھا۔ سوال کس بنا پر آپ نے اس کو چیلنج دیا تھا ؟ جواب ۔ ڈوئی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں خدا کا رسول ہوں اور کہ خدا نے مجھے بذریعہ الہام یہ بتایا ہے کہ مسیح خدا کا بیٹا اور خود خدا تھا اور کہ خود مسیح نے مجھے بحیثیت خدا ہونے کے ایسا الہام کیا ہے اور کہ (نعوذ باللہ ) اسلام تباہ ہو جاوے گا اور کہ (نعوذ باللہ ) آنحضرت جھوٹے نبی تھے۔ چونکہ ہمیں خدا نے بذریعہ اپنے الہام کے یہ بتایا ہے کہ مسیح نہ خدا ، نہ خدا کا بیٹا بلکہ صرف ایک پاکباز انسان اور رسول تھا اور کہ ڈوئی اپنے اس دعوی رسالت میں کا ذب ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ہی وقت میں اسی ایک ہی خدا کی طرف سے ایک دوسرے کے بالکل متضاد اور مخالف راہوں پر چلنے والے دور سول موجود ہوں۔ پس چونکہ اس طرح سے دنیا میں فساد پیدا ہوتا اور حق و باطل میں امتیاز اٹھ جاتا