ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 160

ملفوظات حضرت مسیح موعود ١٦٠ جلد دہم عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اندر ہی اندر وہ بڑی بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں ۔ پس سبب کو دور کرنا چاہیے اور جو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹادینا چاہیے اور والدہ کو خوش کرنا چاہیے۔ دیکھو شیر اور بھیڑیئے اور اور درندے بھی تو ہلائے سے ہل جاتے ہیں اور بے ضرر ہو جاتے ہیں۔ دشمن سے بھی دوستی ہو جاتی ہے اگر صلح کی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے؟ فرمایا کہ ایک شخص کی دو بیویاں تھیں۔ بیویوں میں باہمی نزاع ہو جانے سوکنوں کی مشکلات پر ایک بیوی خود بخود بلا اجازت اپنے گھر میکے چلی گئی و شخص میرے وہ پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں طلاق دے دوں۔ میں نے سوچا کہ یہ معاملات بہت باریک ہوتے ہیں۔ سوکن کو بڑی بڑی تلخیاں اٹھانی پڑتی ہیں اور بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ بعض عورتیں اپنی مشکلات کی وجہ سے خود کشی کر لیتی ہیں ۔ جس طرح سے دیوانہ آدمی مرفوع القلم ہوتا ہے اسی طرح سے یہ بھی ایسے معاملات کی وجہ سے مرفوع القلم اور واجب الرحم ہوتی ہیں کیونکہ سوکن کی مشکلات بھی دیوانگی کی حد تک پہنچا دیتی ہیں ۔ اصل بات یہ تھی کہ وہ شخص خود بھی دوسری بیوی کی طرف ذرا زیادہ التفات کرتا تھا اور وہ بیوی رف ذرا زیادہ التفات کرتا تھا اور وہ بیوی بھی اس بیچاری کو کوستی اور تنگ کرتی تھی۔ آخر مجبور ہو کر اور ان مشکلات کی برداشت نہ کر کے چلی رض گئی۔ چنانچہ اس شخص نے خود اقرار کیا کہ واقعی یہی بات تھی اور اپنے ارادے سے باز آیا۔ ایسے قصوروں کو تو خود خدا بھی معاف کر دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِه (البقرة : ۲۸۷) جو امر فوق الطاقت اور نا قابل برداشت ہوجاوے اس سے خدا بھی در گذر کرتا ہے دیکھو ! حضرت ہاجرہ کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے جو کہ مومنین کی دادی تھی پہلی مرتبہ جب وہ نکالی گئی تو فرشتہ نے اسے آواز دی اور بڑی تسلّی دی اور اس سے اچھا سلوک کیا مگر جب دوسری مرتبہ نکالی گئی تو سوکن نے کہا کہ اس کو ایسی جگہ چھوڑ و جہاں نہ دانہ ہو نہ پانی ۔ اس کی غرض یہی تھی کہ وہ اس طرح سے ہلاک ہوکر نیست و نابود ہو جاوے گی اور حضرت ابراہیم کا ایسا منشانہ تھا مگر خدا نے حضرت ابراہیم کو کہا کہ اچھا جس طرح یہ کہتی ہے اسی طرح کیا جاوے اور سارہ کی