ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 161

ملفوظات حضرت مسیح موعود بات کو مان لے۔ ۱۶۱ جلد دہم اصل میں بات یہ تھی کہ خدا ت یہ تھی کہ خدا کا منشا قدرت نمائی کا تھا۔ توریت میں یہ قصہ مفصل لکھا ہے۔ بچہ جب بوجه شدت پیاس رونے لگا تو بی بی ہاجرہ پہاڑ کی طرف پانی کی تلاش میں ادھر اُدھر گھبراہٹ سے دوڑتی بھاگتی پھرتی رہی مگر جب دیکھا کہ اب یہ مرتا ہے تو بچے کو ایک جگہ ڈال کر پہاڑ کی چوٹی پر دعا کرنے لگ گئی کیونکہ اس کی موت کو دیکھ نہ سکتی تھی ۔ اسی اثناء میں غیب سے آواز آئی کہ ہاجرہ ! ہاجرہ ! لڑکے کی خبر لے وہ جیتا ہے۔ آکر دیکھا تو لڑ کا جیتا تھا اور پانی کا چشمہ جاری تھا۔ اب وہی کنواں ہے جس کا پانی ساری دنیا میں پہنچتا ہے اور بڑی حفاظت اور تعظیم اور شوق سے پیا جاتا ہے۔ غرض یہ سارا معاملہ بھی سوکنوں کے باہمی حسد وضد کی وجہ سے تھا۔ فرمایا۔ خدا کا نام ظاہر بھی ہے انبیاء کا وجود خدا تعالیٰ کے ظہور کا باعث ہوتا ہے اور باطن بھی ۔ وہی ظاہر ہے اور کوئی ظاہر نہیں۔ خدا کا ظہور دنیا میں انبیاء کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ انبیاء کا وجود خدا کے ظہور کا باعث ہوتا ہے۔ انبیاء کے آنے سے پہلے خدا مخفی ہوتا ہے۔ لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں اور زبانِ حال سے دنیا بول اٹھتی ہے کہ گویا خدا ہے ہی نہیں ۔ انبیاء آ کر دنیا کو خواب غفلت سے جگاتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے خدا اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے اسی واسطے انبیا ء خدا نما کہلاتے ہیں۔ وہ خود فنا ہو جاتے ہیں جب خدا کا ظہور ہوتا ہے ۔ دیکھو! ہے۔ مو! جب تک انسان اپنے نفسانی جذبات اور خودی سے فنا نہ ہو جاوے جب تک خواہ الہام بھی ہوں اور کشوف بھی دکھائے جاویں مگر کسی کام کے نہیں ہیں کیونکہ بجز اس کے کہ خدا میں اپنے آپ کو فنا کر دیا جاوے یہ امور عارضی ہوتے ہیں اور دیر پا نہیں ہوتے اور ان کی کچھ بھی قدر و قیمت نہیں ہوتی ۔ دعا کی قبولیت کا بھی یہی راز ہے۔ انسان جب تک اپنی خواہشات، قبولیت دعا کا راز ارادوں اور علموں کوترک کر کے خدا میں فنا نہ ہو جاوے اور خدا کی