ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 159

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۹ جلد دہم دوسری قوم کو خود اپنے ارادہ سے اس پر مسلط کر دیتا ہے ۔ والدہ کا حق ایک دوست نے خط کے ذریعہ اس امر کا استفسار کیا کہ میری والدہ میری بیوی سے ناراض ہے اور مجھے طلاق کے واسطے حکم دیتی ہے مگر مجھے میری بیوی سے کوئی رنجش نہیں ۔ میرے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ والدہ کا حق بہت بڑا ہے اور اس کی اطاعت فرض ۔ مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہیے کہ آیا اس ناراضگی کی تہہ میں کوئی اور بات تو نہیں ہے جو خدا کے حکم کے بموجب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو مثلاً اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو تو اس کا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اور اگر کوئی ایسا مشروع امر ممنوع نہیں ہے ۔ جب تو وہ خود وا جب طلاق ہے۔ اصل میں بعض عورتیں محض شرارت کی وجہ سے ساس کو دکھ دیتی ہیں ۔ گالیاں دیتی ہیں۔ ستاتی ہیں۔ بات بات میں اس کو تنگ کرتی ہیں۔ والدہ کی ناراضگی بیٹے کی بیوی پر بے وجہ نہیں ہوا کرتی ۔ سب سے زیادہ خواہشمند بیٹے کے گھر کی آبادی کی والدہ ہوتی ہے اور اس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے ۔ بڑے شوق سے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے خدا خدا کر کے بیٹے کی شادی کرتی ہے تو بھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آسکتی ہے کہ وہ بے جا طور سے اپنے بیٹے کی بہو سے لڑے جھگڑے اور خانہ بربادی چاہے۔ ایسے لڑائی جھگڑوں میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ والدہ ہی حق بجانب ہوتی ہے۔ ۔ ایسے بیٹے کی بھی نادانی اور حماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ تو ناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں ۔ جب اس کی والدہ ناراض ہے تو وہ کیوں ایسی بے ادبی کے الفاظ بولتا ہے کہ میں ناراض نہیں ہوں۔ یہ کوئی سوکنوں کا معاملہ تو ہے نہیں۔ والدہ اور بیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے۔ اگر کوئی وجہ اور باعث اور ہے تو فوراً اسے دور کرنا چاہیے۔ خرچ وغیرہ کے معاملہ میں اگر والدہ ناراض ہے اور یہ بیوی کے ہاتھ میں خرچ دیتا ہے تو لازم ہے کہ ماں کے ذریعہ سے خرچ کرادے اور کل انتظام والدہ کے ہاتھ میں دے۔ والدہ کو بیوی کا محتاج اور دست نگر نہ کرے۔ بعض