ملفوظات (جلد 10) — Page 158
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۸ جلد دہم ۲۵ مارچ ۱۹۰۸ء (بوقت سیر ) جناب خلیفہ ڈاکٹر رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن مسلمان ریاستوں کی تباہی کی وجہ فرخ آباد کے گذشتہ نوابی حالات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تباہی اور بربادی اور ان کے محلات کے کھنڈرات بنائے جانے کے متعلق ذکر کرتے تھے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ پہلے بادشاہوں کے زمانہ میں یہ قاعدہ ہوتا تھا کہ ان کے درباروں میں کوئی نہ کوئی اہل اللہ بھی موجود ہوا کرتے تھے جن کے صلاح مشوروں سے بادشاہ کام کیا کرتے تھے اور ان کی دعاؤں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے مگر اب وہ حال نہیں رہا بلکہ ان مسلمانوں کا بھی بنی اسرائیل والا حال ہو گیا۔ ان کو بھی خدا نے بوجہ ان کی بدکاریوں کے چھوڑ دیا تھا اور کوئی نصرت ان کی نہیں ہوتی تھی ۔ وہی حال اب بھی ہو رہا ہے۔ اسلام کی نصرت اور مدد کا خدا نے خود وعدہ کیا ہے مگر کوئی مسلمان بھی ہو۔ مسلمان تو خود ہی مورد قہر و عذاب الہی ہو رہے ہیں ان کی نصرت کیسے ہو؟ یہ چند ہندوستانی مسلمانوں کی ریاستیں جو خدا کے قہر کا نشانہ بنیں ۔ اگر یہ کچھ بھی نیک طینت ہوتے تو خدا ضرور ان کو محفوظ رکھتا اور ان کی نصرت کرتا۔ یہ عذاب اور تنزل جو ان کو نصیب ہوا یہ ان کی اپنی ہی بد عملیوں کا باعث تھا۔ دیکھو! بنی اسرائیل کو خود حضرت موسیٰ کے ہوتے ہوئے شکست ہوئی تھی اس میں بھی یہی وجہ تھی کہ ان کی حالت خود جاذب نصرت نہیں تھی بلکہ حضرت موسیٰ نے ان کو کہہ دیا تھا اس وقت مقابلہ مت کرو۔ موقع مناسب نہیں اور نہ ہی وہ وقت آیا ہے کہ تمہاری نصرت ہو۔ صلاح الدین ایک نیک بخت شخص تھا۔ نمازوں کا بھی پابند تھا۔ چنانچہ صلاح الدین ایوبی خدا تعالی نے بھی اس کی تائید کی اورسخت سے سخت مشکلات اور مخالفوں کے حملوں میں اس کو فتح نصیب کی ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم بگڑ جاتی ہے اور خدا کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھک جاتی ہے اور بدکاریوں اور فسق و فجور میں غرق ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایک