ملفوظات (جلد 10) — Page 157
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۷ جلد دہم اس طرح کا موعودہ کسوف خسوف ظہور میں آوے کوئی مدعی مہدویت اور مسیحیت موجود تھا جس نے اپنے دعوی کو عام کتب کے ذریعہ سے شائع بھی کیا ہو اور اس کا دعوی دنیا میں شہرت یافتہ ہو اور پھر اس کے ساتھ کوئی آسمانی یا زمینی نشان اور تائیدات بھی موجود ہوں یا قرآن وحدیث سے مبرہن کیا گیا ہو۔ ہمارا مطالبہ تو ان شرائط اور لوازم کے ساتھ کسوف خسوف ثابت کرنے کا ہے۔ دیکھو! اس واقعہ کا بیان تو انگریزی اخبارات مثل سول ملٹری اور پایونیر وغیرہ نے بھی کر دیا تھا کہ اس ہیئت کذائی سے اس سے پہلے کبھی کوئی ایسا واقعہ ظہور میں نہیں آیا۔ اس سے بڑھ کر دجل اور بے ایمانی اور کیا ہوگی کہ سب لوازم کو ترک کر کے صرف ایک بات کو ہاتھ میں لے کر اعتراض کر دینا؟ دکھانا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسا نشان ظاہر ہونے سے پہلے کہ وہ مقررہ تاریخوں میں ظاہر ہوا ہو، کوئی مدعی بھی موجود ہو۔ پھر اس نے دعوی بھی کیا ہو۔ اس دعوی کی اشاعت بھی کی ہو اور اس کو آیات و نشانات ارضی و سماوی اور دلائل قاطعہ سے مبرہن بھی کیا ہو۔ یونہی زبان اعتراض ہلا دینے سے کیا ہوتا ہے؟ اس طرح سے تو تمام نبوت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ مولوی عبداللہ خاں صاحب پٹیالوی نے عرض کیا کہ حضور تمام جماعت ڈاکٹر عبدالحکیم کے عقاید پیالہ نے بڑا شکر کیا تھا جس دن مشخص جماعت میں سے خارج کیا گیا تھا۔ وہ بارہا مجھ سے یوں مخاطب ہوا کرتا تھا کہ مولوی صاحب جب کونین میں ذاتی خاصیت شفا کی موجود ہے تو کیا ضرورت ہے کہ عبدالحکیم کو ڈاکٹر ماننے ہی سے کونین شفادے؟ اس طرح سے جب توحید الہی پر ایمان لانے کا نتیجہ نجات ہے تو کیا ضرورت ہے کہ ہم محمد کو نبی مانیں؟ بلکہ جس طرح سے کو نین بغیر اس کے بھی کہ کسی زید و بکر کو ڈاکٹر تسلیم کیا جاوے نفع پہنچاتی ہے اسی طرح تو حید بھی اپنے نفع پہنچانے اور نجات دلانے کے لئے کسی کے رسول اور نبی ماننے کی محتاج نہیں ۔ فرمایا۔ ہم نے یہی مناسب سمجھا کہ بجائے اس کے کہ نعوذ باللہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر اعتراض سنیں اور ایمان لانے کی ضرورت نہ سمجھنے کا سوال سنیں کیوں عبدالحکیم ہی کو جماعت سے خارج نہ کر دیں ۔ اے الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۳