ملفوظات (جلد 10) — Page 123
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۳ جلد دہم کے باعث قادیان میں آنا دشوار ہے اور انہوں نے بذریعہ خطوط ہی بیعت کی ہوئی ہے۔ بیعت کرنے سے مطلب بیعت کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہے۔ ایک شخص نے روبرو ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی ۔ اصل غرض اور غایت کو نہ سمجھایا پروانہ کی تو اس کی بیعت بے فائدہ ہے اور اس کی خدا کے سامنے کچھ حقیقت نہیں ۔ مگر دوسرا شخص ہزار کوس سے بیٹھا بیٹھا صدق دل سے بیعت کی حقیقت اور غرض وغایت کو مان کر بیعت کرتا ہے اور پھر اس اقرار کے اوپر کار بند ہو کر اپنی عملی اصلاح کرتا ہے وہ اس روبرو بیعت کر کے بیعت کی حقیقت پر نہ چلنے والے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ دیکھو مولوی عبداللطیف صاحب شہید اسی بیعت کی وجہ سے پتھروں سے مارے گئے ایک گھنٹہ تک برابر ان پر پتھر برسائے گئے حتی کہ ان کا جسم پتھروں میں چھپ گیا مگر انہوں نے اُف تک نہ کی ۔ ایک پیچ تک نہ ماری بلکہ ان کو اس ظالمانہ کارروائی سے پیشتر تین بار خود امیر نے اس امر سے توبہ کرنے کے واسطے کہا اور وعدہ کیا کہ اگر تم تو بہ کرو تو معاف کر دیا جاوے گا اور پیشتر سے زیادہ عزت اور عہدہ عطا کیا جاوے گا مگر وہ تھا کہ خدا کو مقدم کیا اور کسی دکھ کی جو خدا کے واسطے اُن پر آنے والا تھا پروا نہ کی اور ثابت قدم رہ کر ایک نہایت عمدہ زندہ نمونہ اپنے کامل ایمان کا چھوڑ گئے ۔ وہ بڑے فاضل، عالم اور محدث تھے۔ سنا ہے کہ جب ان کو پکڑ کر لے جانے لگے تو اُن سے کہا گیا کہ اپنے بال بچوں سے مل لو ان کو ۔ دیکھ لومگر انہوں نے کہا کہ اب کچھ ضرورت نہیں۔ یہ ہے بیعت کی حقیقت اور غرض وغایت ۔ بعض لوگوں کے ہمارے پاس خط آتے ہیں کہ میں ایک مسجد کا ملاں تھا۔ آپ کی بیعت کرنے کی وجہ سے لوگ مجھ سے ناراض ہیں۔ مخالفت کرتے ہیں ۔ غرض مجھے بیعت کی وجہ سے سخت تکلیف ہے حالانکہ اس آزادی اور امن کے زمانہ اور سلطنت میں ان لوگوں کو کوئی تکلیف ہی کیا پہنچا سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کسی نے زبان سے گالیاں نکال دی ہوں گی ۔ تو ان باتوں سے ہوتا بھی کیا ہے۔ مگر وہ اس کو تکلیف سمجھتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ بیعت کرنے کی وجہ سے مجھے یہ تکلیف پہنچی ۔ غرض بعض لوگ ذراسی مخالفت کی بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔ اصل میں انہوں نے