ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 124

ملفوظات حضرت مسیح موعود بیعت کی حقیقت ہی کو نہیں سمجھا ۔ لے ۱۵ مارچ ۱۹۰۸ء (بوقت سیر ) ۱۲۴ جلد دہم مولوی ابو رحمت صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں کرشن جی مہاراج کا مذہب عرض کیا کہ حضر کرشن جی مہاراج کا ذہب جیسا کہ خود ان کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے ان کے زمانہ کے عام اہلِ ہنود سےا حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ واقعی اور صحیح بات ہے کہ بعد کے لوگ بزرگوں کی تعلیم کو بوجہ امتدادِ زمانہ بھول جاتے ہیں اور اُن کی سچی تعلیموں میں بہت کچھ بے جا تصرف کر لیا کرتے ہیں اور مرور زمانہ سے ان کی اصلی تعلیم پر سینکڑوں پر دے پڑ جاتے ہیں اور حقیقت حال دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہو جاتی ہے۔ اصل بات یہی سچ ہے کہ اُن کا مذہب موجودہ مذہب اہلِ ہنود سے بالکل مختلف اور توحید کی سچی تعلیم پر مبنی تھا۔ حضرت اقدس نے اس جگہ اپنے دو الہام بیان فرمائے ۔ اول یہ ہے کہ ہے کرشن روڈ رگو پال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔ اور دوسرا الہام یہ بیان فرمایا کہ ایک بار الہام ہوا تھا کہ آریوں کا بادشاہ آیا ایک اور خواب حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایک بار ہم نے کرشن جی کو دیکھا کہ وہ کالے رنگ کے تھے اور پتلی ناک، کشادہ پیشانی والے ہیں۔ کرشن جی نے اُٹھ کر اپنی ناک ہماری ناک سے اور اپنی پیشانی ہماری پیشانی سے ملا کر چسپاں کر دی۔ ایک اور واقعہ آپ نے یوں بیان فرمایا کہ خواجہ باقی باللہ صاحب کے سامنے کسی شخص نے اپنی خواب یوں بیان کی کہ میں نے دیکھا ہے الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۷ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۶