ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 116

ملفوظات حضرت مسیح موعود ١١۶ جلد دہم حضرت عیسی کے واسطے احیاء موٹی کا لفظ آوے تو حقیقی مُردے زندہ ہو جاویں جو سنت اللہ اور قرآن مجید کے منشا کے خلاف ہیں مگر جب وہی لفظ آنحضرت کے واسطے آتے ہیں تو اس سے مراد روحانی مردے بن جاتے ہیں ۔ انجیل میں لکھا ہے کہ جتنے مردے قبروں میں تھے سب زندہ ہو کر شہروں میں آگئے اس کثرت سے آپ نے مردے زندہ کئے ۔ بھلا ان سے کوئی سوال تو کرے کہ ہزاروں مردے زندہ ہو کر شہروں میں آگئے ان کا گذر کیسے ہوا؟ اور دوسرا یہ کہ باوجود اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے پھر وہ لوگ ایمان کیوں نہ اور لائے؟ ان کو کوئی سمجھا تا کہ انہوں نے ہی دعا کی اور تم زندہ ہوئے اب ان پر ایمان لے آؤ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنا بڑا معجزہ نہ ان مردوں کے واسطے مفید ہوا نہ ان کے رشتہ داروں کے واسطے جنہوں نے ان مردوں کو بچشم خود زندہ ہوتے قبروں میں سے نکل کر شہروں میں داخل ہوتے دیکھا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ علم تعبیر رویا میں لکھا ہے کہ جب کوئی دیکھے کہ مردے قبروں میں سے زندہ ہو کر شہروں میں آگئے ہیں تو اس کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ اس وقت کے نیک طبع لوگ قید سے رہائی پا جاویں گے۔ اس وقت چونکہ خود حضرت مسیح قید میں تھے تو ممکن ہے کہ انہوں نے خود یا کسی اور نے یہ رویا یا مکاشفہ دیکھا ہومگر بعد میں وہ مکاشفہ یا رویا تو ترک کر دیا گیا اور اصل مطلب لے لیا گیا۔ آنحضرت کی نسبت بھی مردے زندہ کرنے کے متعلق کئی روایات تھیں مگر معتبر کتب احادیث میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ دیکھو امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بڑے بڑے مشکلات جھیل کر قریب ایک لاکھ کے حدیث جمع کی۔ مگر آخران میں سے صرف چالیس ہزار رکھیں باقی متروک کر دیں ۔ ہمارے مسلمان ان معاملات میں بڑے محقق گزرے ہیں ۔ اسی طرح حضرت عیسی کا خلق طیور کا مسئلہ ہے۔ ہم معجزات کے منکر نہیں بلکہ مسئلہ خلق طیور قاتل قائل ہیں۔ حضرت عیسی کا خلق طیور کا مسئلہ بعینہ موسیٰ علیہ السلام کے سوٹے والی لے سہو کتابت معلوم ہوتی ہے صحیح بخاری میں قریباً سات ہزار دو سو پچھتر حدیثیں ہیں اور اگر مکر رات کو نکال دیں تو چار ہزار حدیثیں ہیں ۔ (مرتب)