ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 115

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۵ جلد دہم لکھا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ (المائدة : ۱۱۸) یہ عجیب نکتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیان کو قیامت کے دن کے لئے خاص کر دیا ہے۔ اس سے تو صاف ثابت ہے کہ حضرت عیسی وفات پاچکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں کہ کیا ایسے مشرکانہ خیالات اور عقائد تم نے ان لوگوں کو بتائے ہیں؟ حضرت مسیح صاف انکار کرتے ہیں اور کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں کہ یا الہی ! میں نے تو ان کو تو حید کی تعلیم دی تھی۔ یہ مشر کا نہ تعلیم میری وفات کے بعد انہوں نے اختیار کی ہے۔ میں اس کا ذمہ وار نہیں ہوں ۔ چاہے ان کو عذاب دے اور چاہے تو ان کو بخش تیرے بندے ہیں۔اب صاف بات ہے کہ اگر حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے اور عیسائیوں کے ایسے فاسد عقائد کی اصلاح کی ہوتی تو بڑے زور سے عرض کرتے کہ یا اللہ ! میں نے بڑے بڑے جنگ کئے ہیں اور بہت مشکلات اُٹھا کر ان کے مشرکانہ خیالات اور عقائد کی جگہ دوبارہ تیری توحید ان میں قائم کی ہے۔ میں تو بڑے انعامات کا مستحق ہوں چہ جائیکہ مجھ سے ایسا سوال کیا جاتا ۔ غرض خودان کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ وفات پاچکے اور دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ پھر آنحضرت نے ان کو معراج کی رات مردوں میں دیکھا ۔ بھلا زندوں کو مردوں سے کیا تعلق؟ اگر مسیح زندہ تھے تو پھر مردوں میں کیوں جا شامل ہوئے؟ اس کے سوا سینکڑوں مقامات قرآن شریف میں ہیں جن سے ان کی وفات ثابت ہے۔ عجیب بات ہے کہ یہی توفی کا لفظ ہے جب اوروں کے واسطے آوے تو اس کے معنے موت کے کئے جاتے ہیں اور جب حضرت عیسی کے واسطے آوے تو کچھ اور کئے جاتے ہیں۔ نہ معلوم یہ خصوصیت حضرت عیسی کو کیوں دی جاتی ہے؟ دیکھو حضرت یوسف کی دعا ہے کہ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ (يوسف : ۱۰۲) علاوہ ازیں اور بیسیوں جگہ توفی کا لفظ موت ہی کے معنوں میں وارد ہوا ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ توفی فعل کا فاعل اللہ ہو اور مفعول ذی روح چیز ہو تو معنے بجز موت کوئی اور ہو سکتے ہیں۔ ان کے مردے زندہ کرنے کے معجزے کو بھی خواہ مخواہ نواه واه مسیح کے احیاء موٹی کی حقیقت خصوصیت دی گئی ہے۔ تعجب آتا ہے ان مولویوں پر کہ