ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 117

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۷ جلد دہم بات ہے دشمنوں کے مقابلہ کے وقت وہ اگر سانپ بن گیا تھا تو دوسرے وقت میں وہی سوٹے کا سوٹا تھا نہ یہ کہ وہ کہیں سانپوں کے گروہ میں چلا گیا تھا۔ پس اسی طرح حضرت عیسی کے وہ طیور بھی آخرمٹی کے مٹی ہی تھے بلکہ حضرت موسیٰ کا سوٹا تو چونکہ مقابلہ میں آگیا تھا اور وہ مقابلہ میں غالب ثابت ہوا تھا اس واسطے حضرت عیسی کے طیور سے بہت بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ طیور تو نہ کسی مقابلے میں آئے اور نہ اُن کا غلبہ ثابت ہوا ۔ غرض ایک حصہ تو ہمارے دعاوی کا حضرت عیسی کی وفات کے ثابت کرنے کے متعلق ہے جس کو ہم نے ہر طرح سے عقل سے نقل، اقوال ائمہ سے غرض ہر پہلو سے بیسیوں کتابیں تالیف کر کے ثابت کر دیا ہے۔ سوده مسیح کی آمد ثانی دو سر حقہ آمدثانی کے تعلق ہے۔ سو اللہ تعالی نے خود آسمانی نشانات اور تائیدات سماوی کے ذریعہ سے اور آئے دن ہماری ترقی ، دشمنوں کا تنزل کر کے ظاہر کر دیا ہے۔ ایک طوفان اور دریا کی لہریں تائید اور نصرت کی خدا کی طرف سے آ رہی ہیں۔ ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تازہ نشانات اور قبل از وقت ز بر دست کثیر پیشگوئیاں دلوں پر اثر ڈالتی ہیں اور انہیں سے ترقی ہوئی۔ ان ملانوں کے پرانے رطب و یابس جو ان کے پاس قصے کہانیوں کے رنگ میں ہیں ان سے کیا ترقی ہوسکتی ہے بلکہ تنزل کے اسباب ہیں ۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر رویا کرتے تھے کہ یہ تیرھویں صدی سخت منحوس ہے۔ چودہویں صدی انعامات و برکات کا موجب ہوگی اور امام مہدی اور مسیح موعود اس صدی میں آوے گا۔ صدیق حسن خاں نے کئی اولیاء اللہ کی روایات سے اپنی کتاب میں ثابت کیا ہے کہ سب کا اتفاق تھا کہ مسیح آنے والا چودھویں صدی میں آوے گا ۔ مگر خدا جانے اب لوگوں کو کیا ہو گیا ؟ خیر اصل بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی صفائی کرنی زبانی بیعت کی کچھ بھی حقیقت نہیں چاہیے۔ صرف زبان سے کہ دینا کہ میں نے بیعت کر لی ہے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا جب تک عملی طور سے کچھ کر کے نہ دکھلایا جاوے۔ صرف زبان