مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 83
مکتوبات احمد ۸۳ جلد: مکتوب نمبر ۱۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکرمی محتی اخویم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم و رحمة ا بکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچ کر آپ کی محبت اور اخلاص اور اعتقاد پر اس امتحان کے وقت میں خبر پا کر نہایت درجہ کی خوشی ہوئی خدا تعالیٰ آپ کو اس سے بھی بڑھ کر استقامت بخشے ۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بار بار اپنے خطوط میں اپنی مخالفت کا اظہار کر رہے ہیں۔ میں نے مولوی صاحب کو لکھا تھا کہ آپ اوّل ایک جلسہ عام علماء وغیرہ کا کر کے بعض شکوک اپنے تحریری طور پر پیش کیجئے اور اسی جلسہ میں تحریری طور پر آپ کو جواب دیا جائے گا اور وہ دونوں تحریر میں عام لوگوں کو سنا دی جائیں گی۔ اگر یہ طریق شافی و کافی نہیں ہوگا تو پھر آپ اشاعۃ السنہ میں درج کریں بالمواجہ گفتگو میں ایک خاص برکات ہوتے ہیں جو اُس مخالفانہ تحریر میں ایک ربانی الہام کا مخالف ہر گز نہیں پاسکتا جو ایک گوشہ میں بیٹھ کر کوئی یکطرفہ تحریر کرنا چاہتا ہے لیکن مولوی محمد حسین صاحب ایسے جلسہ کو قبول نہیں کرتے لیکن اپنے طور پر اپنی مخالفت عام طور پر یہ مشہور کر رہے ہیں اور اب اشاعۃ السنہ میں اپنے خیالات کو تحریر کرنا چاہتے ہیں اس عاجز نے محض اللہ بہت سمجھایا کہ آپ بمقام امرتسر علماء کے جلسہ میں تحریری طور پر مجھ سے گفتگو کریں شاید خدا تعالیٰ آپ کے دل کو راستی کی طرف پھیر دیوے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن اب تک انہوں نے قبول نہیں کیا آج پھر اس عاجز نے خط لکھا ہے رسالہ ازالہ اوہام شاید ہمیں دن تک چھپ جائے ہیں جزو کے قریب ہوگا إِنْشَاءَ اللهُ الْقَدِيرُ چھپنے کے بعد آپ کی خدمت میں بھیجوں گا اگر آنمکرم کے پاس وہ کاغذات پہنچے ہوں جو مولوی عبدالجبار صاحب اور مولوی محمد اسمعیل صاحب نے لکھے ہیں تو مہربانی فرما کر ارسال فرماویں۔ والسلام ۱۴ مارچ ۱۸۹۱ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ حمد الحکم نمبر ۲۹ جلد۷ مورخه ۱۰ را گست ۱۹۰۳ء صفحه ۱۴۷۱۳