مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 509
مکتوبات احمد ۵۰۹ جلد مکتوب ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں اپنی حالت زار پیش کر کے دعا کے واسطے درخواست کی ۔ حضرت نے اس کو مفصلہ ذیل جواب تحریر فرمایا ) وو السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ذوق شوق عبادت اور حضور نماز وغیرہ حالات کے بارے میں صرف یہ طریق رکھنا چاہیئے کہ ہمیشہ نماز میں اپنے لئے دعا کریں۔ خدا تعالیٰ کے کام بہت آہستگی سے ہوتے ہیں وہ جلد باز کو پسند نہیں کرتا۔ جس طرح یہ امر خطر ناک ہے کہ انسان کا دل گناہ سے سرد نہ ہو عبادت کا مزہ نہ آوے۔ اس سے بڑھ کر یہ امر خطر ناک ہے کہ انسان جلدی کرے اور خدا کو آزماوے بلکہ چاہیئے کہ انسان سچے دل سے تو بہ اور استغفار میں لگا ر ہے ۔ گو دعا میں بیس برس گزرجاویں اور کوئی نشان قبولیت دعا کا ظاہر نہ ہو۔ خدا تعالیٰ بے نیاز ہے۔ صبر کے ساتھ ہر ایک کو اس کا پھل دیتا ہے اور میں تو اپنی نماز میں اپنی جماعت کے ہر ایک فرد کے لئے عا کرتا رہتا ہوں ۔ کسی وقت تو دعا سن لے گا۔“ مکتوب ایک شخص نے اپنے مصائب اور تکالیف کو نا قابل برداشت بیان کرتے ہوئے ایک لمبا خط حضرت صاحب کی خدمت میں لکھ کر یہ ظاہر کیا کہ میں بہ سبب ان مصائب کے ایسا تنگ ہوں کہ خودکشی کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ حضرت نے جواب میں اس کو لکھا کہ ) خودکشی کرنا گناہ ہے اور اس میں انسان کے واسطے کچھ فائدہ اور آرام نہیں ہے کیونکہ مرنے سے انسان کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا بلکہ ایک نئے طرز کی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر انسان اس دنیا میں تکالیف میں ہے تو خدا تعالیٰ کی نارضا مندیوں کو ساتھ لے کر اگر دوسری طرف چلا جائے گا تو وہاں کے مصائب اور تلخیاں اس جگہ کی مرارت سے بھی بڑھ کر ہیں۔ پس ایسی خودکشی اس کو کیا فائدہ دے گی ۔ انسان کو چاہیے کہ صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا مانگنے میں مصروف رہے اور اپنی حالت کی اصلاح میں کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ جلد رحم کر کے تمام بلاؤں اور آفتوں سے اس کو نجات دے گا ۔ ، بدر نمبر ۳۰ جلد ۲ مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۰۶ ء صفحہ ۹ ☆ ☆☆۔۔