مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 507
مکتوبات احمد ۵۰۷ جلد پنجم ان سے بہتر پیدا کر دے گا جو صدق اور اخلاص رکھتی ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے L فرماتا ہے۔ يَنْصُرُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ۔ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُّوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ یعنی خدا تیری اپنے پاس سے مدد کرے گا۔ تیری وہ مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ وحی کریں گے اور الہام کریں گے ۔ پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں اور کیا وجہ کہ انہیں جبکہ میں ایسے خشک دل لوگوں کو چندہ کے لئے مجبور نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز ناتمام ہے۔ مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفہ اللہ سمجھتے ہیں اور میرے تمام کاروبار خواہ ان کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں ۔ میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں ۔ میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں ۔ میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو ایک ذرہ بھی میری نسبت اور میرے مصارف کی نسبت اعتراض دل میں رکھتا ہے اس پر حرام ہے کہ ایک کوڑی میری طرف بھیجے ۔ مجھے کسی کی پروا نہیں جبکہ خدا مجھے بکثرت کہتا ہے گویا ہر روز کہتا ہے کہ میں ہی بھیجتا ہوں جو آتا ہے اور کبھی میرے مصارف پر وہ اعتراض نہیں کرتا تو دوسرا کون ہے جو مجھ پر اعتراض کرے۔ ایسا اعتراض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی تقسیم اموال غنیمت کے وقت کیا گیا تھا۔ سو میں آپ کو دوبارہ لکھتا ہوں کہ آئندہ سب کو کہہ دیں کہ تم کو اس خدا کی قسم ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور ایسا ہی ہر ایک جو اس خیال میں اس کا شریک ہے کہ ایک جبہ بھی میری طرف کسی سلسلہ کے لئے کبھی اپنی عمر تک ارسال نہ کریں پھر دیکھیں کہ ہمارا کیا حرج ہوا ۔ اب قسم کے بعد میرے پاس نہیں کہ اور ☆ لکھوں کی ۔ خاکسار مرزا غلام احمد ا تذکرہ صفحہ ۳۹ ایڈیشن ۲۰۰۴ء ۲ تذکره صفحه ۵۳۵ ایڈیشن ۲۰۰۴ء الحکم نمبر ا ا جلد ۹ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۸، ۹ ر جلد و مورتی /